قرآن کی روشنی میں: صیہونی پروپیگنڈوں کے سامراج سے ڈرنا نہیں چاہیے

تبدیلی لانے کی ایک شرط دشمن اور دشمنیوں سے خوف زدہ نہ ہونا ہے۔ خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے:  اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، ان کی اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک اقدام صحیح، اہم، ٹھوس اور نپے تلے انداز میں انجام پا رہا ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بیرونی دشمنوں کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔

امام خامنہ ای

3 جون 2020

تبدیلی لانے کی ایک شرط دشمن اور دشمنیوں سے خوف زدہ نہ ہونا ہے۔ خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے:  اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، ان کی اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک اقدام صحیح، اہم، ٹھوس اور نپے تلے انداز میں انجام پا رہا ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بیرونی دشمنوں کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔

امام خامنہ ای

3 جون 2020

19 جنوری 2026

قرآن کی روشنی میں: صیہونی پروپیگنڈوں کے سامراج سے ڈرنا نہیں چاہیے