کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا ترجمے کی تقریب رونمائی کے نام شیخ ابراہیم زکزکی کا پیغام

کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا ترجمے کی تقریب رونمائی کے نام شیخ ابراہیم زکزکی کا پیغام

کتاب "خون دلی کہ لعل شد" کے ہوسا زبان میں ترجمے کی تقریب رونمائی میں نائیجیریا تحریک اسلامی کے رہنما شیخ ابراہیم زکزکی نے ایک خصوصی ویڈیو پیغام رہبر شہید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ شیخ زکزکی کا پیغام حسب ذیل ہے:

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ‌ای کی مجاہدتوں کے بارے میں بات کرنا ایک ایسے وسیع میدان کے بارے میں گفتگو کرنے جیسا ہے جسے دو منٹ میں سمیٹا نہیں جا سکتا۔ اس کے باوجود اگر میں امام شہید کی مجاہدت کو اختصار سے بیان کرنا چاہوں تو کہنا ہوگا کہ وہ حقیقت میں موجودہ دور میں راہ خدا میں جہاد کے مظہر تھے، ہمارے زمانے کے حسین ابن علی تھے۔ ان کی پوری زندگی مجاہدت سے عبارت تھی۔ 

وہ ایک دینی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید جواد حسینی خامنہ‌ای، ایک عالم دین اور روحانی شخصیت تھے جو نجف میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے فرزند کی پرورش مقدس شہر مشہد میں کی، وہی جگہ جہاں سید خامنہ‌ای نے دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ وہ ایک علمی ماحول میں پروان چڑھے اور انھوں نے اس زمانے میں اسلام کو سمجھنے کے لیے جو کچھ ضروری تھا، وہ سب حاصل کیا۔

جب امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی تحریک کا آغاز ہوا تو سید علی خامنہ‌ای ان کے نمایاں ترین شاگردوں میں سے ایک تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے اس جدوجہد کے مختلف مراحل کو طے کیا اور اسے پوری گہرائی سے سمجھا۔ انھیں کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈالا گیا۔ شاہ کے دور میں وہ چھے مرتبہ گرفتار ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب کی کامیابی سے کچھ وقت پہلے، وہ سب کے سب جیل میں تھے۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ انقلاب کی نمایاں شخصیات اور اصل مظاہر میں سے ایک بن گئے۔ انقلاب کے دشمن جو اس کے رہبروں کو ختم کرنے کے درپے تھے، اچھی طرح جانتے تھے کہ انقلاب کی بقا ان شخصیات کے وجود سے وابستہ ہے۔ اسی لیے انھوں نے ان کو بھی قاتلانہ حملوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ انھوں نے آیت اللہ مطہری، آیت اللہ بہشتی اور انقلاب کی بہت سی نمایاں شخصیات پر قاتلانہ حملے کیے۔

انقلاب کے ایک سال بعد، ان کی باری آئی۔ انھیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی، ان کے سامنے دھماکہ خیز مادے سے بھرا ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا گیا جو پھٹ گیا۔ انھیں بے ہوشی کی حالت میں لے جایا گیا اور سب یہی سمجھ رہے تھے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔ بعد میں اسپتال میں معلوم ہوا کہ وہ زندہ رہیں گے اور صحت یاب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ میں نے سنا ہے، جب ان سے کہا گیا کہ سب لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ آپ شہید ہو گئے ہیں، تو انھوں نے جواب دیا: "شاید ابھی ایک راستہ باقی تھا جسے خدا چاہتا تھا کہ میں طے کروں، اور اسی لیے اس نے میری زندگی کو محفوظ رکھا۔" ان کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا اور گزشتہ 46 برس سے وہ اسی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔

انقلاب کے بانی امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ان افراد نے، جن کے ذمے ان کے جانشین کے انتخاب کی ذمہ داری تھی، متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سید علی خامنہ‌ای، امام خمینی کے جانشین ہوں گے۔ خود آیت اللہ خامنہ ای نے اس کی مخالفت کی لیکن ان سے کہا گیا کہ رہبر کا انتخاب ان لوگوں کی ذمہ داری ہے، خود ان کی نہیں۔ وہ انھیں اس ذمہ داری کے لیے واحد اہل فرد سمجھتے تھے۔

خدا کا شکر ہے کہ انھوں نے خداوند متعال کی مدد سے قیادت کے اس بھاری بوجھ کو اس طرح اٹھایا کہ گویا امام خمینی ابھی زندہ ہوں۔ وہ وقت یاد کیا جا سکتا ہے جب امریکا میں برسر اقتدار اس قاتل نے اپنے پہلے دور صدارت میں، جاپان کے وزیر اعظم کے ذریعے ان کے لیے ایک خط بھیجا لیکن وہ وزیر اعظم، انھیں وہ خط دے بھی نہیں سکا۔ ایک شخص نے، جو اس واقعے کا گواہ تھا اور خود امریکی تھا، کہا: "یہ امام خمینی کی روح تھی جو ان کے اندر سے بول رہی تھی۔" گویا جب تک سید خامنہ ای قیادت کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے، امام خمینی زندہ تھے۔

وہ ایک آگاہ عالم، دوراندیش حکیم اور گہری بصیرت رکھنے والے انسان تھے، ایک ایسی شخصیت جو مستقبل کا اندازہ لگا لیتی تھی اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرتی تھی۔ انھوں نے امام خمینی کی وفات سے لے کر آج تک انقلاب کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی اور مشیت الہی کے تحت ان کی شہادت 46 برس مؤخر کر دی گئی۔ اس عظیم ہستی نے اس زخم اور اپنے دائیں ہاتھ کے مفلوج ہو جانے کے باوجود، بغیر تھکے ہوئے اپنا راستہ جاری رکھا، جیسے وہ ایک پرجوش نوجوان ہوں۔

آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اگرچہ سید خامنہ ای نے فوجی ٹریننگ حاصل نہیں کی تھی لیکن انھوں نے دکھا دیا کہ وہ ایک حقیقی مجاہد ہیں۔ انھیں فوجی لباس میں مورچوں کے اندر دیکھا جاتا تھا۔ وہ میدان جنگ میں موجود رہتے تھے۔ وہ حقیقت میں ایک شجاع مجاہد، ایک عظیم عالم اور ایک بے مثال لیڈر تھے۔ وہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک خاص (الہی) عطیہ تھے اور جب وہ ہم سے جدا ہوئے تو امت مسلمہ نے گویا ایک باپ کو کھو دیا، ایسی شخصیت، جیسی ہم نے امام خمینی کی وفات کے وقت سے کبھی نہیں کھوئی تھی۔

ہم اپنے رہبر شہید سے عہد کرتے ہیں کہ ان کے راستے کو جاری رکھیں گی، وہی راستہ جس پر انھوں نے امت مسلمہ کے لیے اپنی جان قربان کر دی، اسی طرح جیسے ان کے جد امام حسین علیہ السلام نے صدیوں پہلے امت کی بقا کے لیے اپنی جان کی قربانی دی تھی۔ امام سید علی خامنہ ای نے دکھا دیا کہ رہبر کیسا ہونا چاہیے، ایسا رہبر جو اپنے بارے میں نہیں بلکہ لوگوں کے بارے میں سوچتا ہو۔ انھیں امت کی بقا کی فکر تھی اور بلا شبہہ ان کا خون اس کینسر کے پھوڑے یعنی صیہونی حکومت کی نابودی اور مغربی سامراج کے زوال تک ان مجرموں کے حامیوں کا دامن پکڑے رہے گا، ان شاء اللہ۔

ہم ایک بار پھر اپنے امام سے عہد کرتے ہیں، اس امام سے کہ اگرچہ ان کا جسم ہمارے درمیان نہیں لیکن ہم انھیں اپنے ساتھ زندہ محسوس کرتے ہیں۔ اور ہمیں امید ہے کہ ان کے جانشین، جو اسی خون سے ہیں، ان شاء اللہ اس راستے کو جاری رکھیں گے، جس طرح امام خمینی اور امام خامنہ‌ای نے اس انقلاب کی رہنمائی کی۔

نئے رہبر سید مجتبیٰ خامنہ‌ای، ان شاء اللہ عالمی سامراج کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کی واحد اور برتر طاقت کے قیام تک اسی راستے کو جاری رکھیں گے۔

اور ہم خداوند عالم سے دعا کرتے ہیں کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

اور خداوند عالم کا درود و سلام ہو محمد اور ان کی پاک آل پر۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ۔

 

18 مئی 2026