یقینا باطل گروہوں کا ہدف "ایّام اللہ" پر پردہ ڈالنا یا اس طرح کے واقعات کے رنگ کو پھیکا بنا دینا ہے۔ قرآن مجید نے ایّام اللہ کی یاد کو باقی رکھنے کا حکم دیا ہے: اے رسول! اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجیے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہوکر (بیت المقدس کے) ایک مشرقی مقام پر گئیں۔ (سورۂ مریم، آیت 16) حضرت مریم کا اہم واقعہ بھلایا نہیں جانا چاہیے، اسے تاریخ میں باقی رہنا چاہیے۔ اور قرآن میں ابراہیم کا ذکر کیجیے۔ (سورۂ مریم، آیت 41) اور کتاب (قرآن) میں موسیٰ کا ذکر کیجیے۔ سورۂ مریم، آیت 51) اور ہمارے بندۂ (خاص) ایوب کو یاد کیجیے۔ (سورۂ ص، آیت 41) شاید دس سے زیادہ مقامات پر قرآن میں اس طرح آیا ہے: وَ اذکُر، وَ اذکُر (یاد کیجیے، یاد کیجیے) ... یہی قرآن کی منطق ہے۔ امام خامنہ ای 9 جنوری 2023
26 جنوری 2026
تبدیلی لانے کی ایک شرط دشمن اور دشمنیوں سے خوف زدہ نہ ہونا ہے۔ خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے: اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، ان کی اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک اقدام صحیح، اہم، ٹھوس اور نپے تلے انداز میں انجام پا رہا ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بیرونی دشمنوں کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔ امام خامنہ ای 3 جون 2020
19 جنوری 2026
انسان اگر صحیح سمت میں قدم اٹھائیں تو صحیح سمت میں ہی آگے بڑھیں گے اور اگر غلط راہ پر لگ جائیں تو غلط راہوں پر ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ سورۂ رعد (کی آیت گیارہ) میں ارشاد ہوتا ہے: بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ یعنی جب آپ خود اپنے اندر صحیح تبدیلیاں لائیں گے تو اللہ بھی آپ کی زندگی میں مثبت حقیقتیں وجود میں لائےگا۔ امام خامنہ ای 1 جون 2020
12 جنوری 2026
پیغمبر اسلام کی بعثت کا ایک بہت ہی اہم خزانہ، جس کی طرف افسوس کہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، اپنے بدخواہوں کے مقابل اٹل اور ناقابل رسوخ ہونا ہے۔ جس کا ذکر اس آیت "اشداء على الكفار" (وہ کافروں پر سخت ہیں ... سورۂ فتح، آیت 29) میں موجود ہے، "اشداء" عمل میں سختی کے معنی میں نہیں ہے، اشداء یعنی سخت ہونا، مضبوط و مستحکم ہونا، ناقابل رسوخ ہونا، اشداء کا یہ مطلب ہے۔ "اشداء على الكفار" یعنی کفار کو اجازت نہ دیں کہ وہ معاشرے میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔ دشمن کے نفوذ کا مطلب اغیار اور بدخواہ قوتوں کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا خود اپنے ملک و معاشرے میں کوئی اختیار نہ رہے۔ امام خامنہ ای 18 فروری 2023
5 جنوری 2026
آپ نے اگر مجاہدت کی تو اللہ کی طاقت آپ کی پشتپناہ بن جائے گی، وہ لشکر جس کا کوئي پشتپناہ نہ ہو، کچھ نہیں کرسکتا، جس لشکر کی پشتپناہی ہوتی ہے، جس کے پاس احتیاطی فورس ہے، بڑی تعداد میں فورسز کا ذخیرہ ہے، وہ ہر کام کرسکتا ہے۔ خدا کی طاقت ان ہی کی پشتپناہ بنتی ہے جو میدان میں اتر پڑتے ہیں، قدم بڑھاتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں خود کو ہر کام کے لیے تیار کر لیں، یہ لوگ الہی قوت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ، اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔ (سورۂ محمد آیت 11) یہ قرآن کی آیت ہے۔ خدا تمھارا مولا و سرپرست ہے، تمھار مولا وہ ہے جس کے اقتدار و اختیار میں تمام عالم وجود ہے۔ یہ تمھارا مولا ہے اور کافروں کا کوئي مولا نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 23 مئی 2016
29 دسمبر 2025
مستقبل اگر کسی کا ہے تو وہ اسلام کا ہے، قرآن کا ہے، آپ صاحب ایمان نوجوانوں کا ہے، مستقبل آپ مومن نوجوانوں کا ہے۔ کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہے؟!! (سورۂ نساء، آيت 122) کون ہے جو مستقبل کے بارے میں اللہ سے زیادہ جانتا ہے؟!! اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ مستقبل تو مومنین کا ہے، صالح بندوں کا ہے، مجاہدین فی سبیل اللہ کا ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اس بات پر دل کی گہرائیوں سے میرا ایمان ہے کہ اگر ہم سے کوئی بھی وعدہ نہ کیا گيا ہوتا تب بھی پچھلے تیس چالیس سال سے ملت ایران کو جو تجربات حاصل ہوئے، ان سے بھی یہ یقین آ جانا چاہیے تھا کہ مستقبل اس قوم کا ہے، اسے یقین آ جانا چاہیے تھا کہ فتح اسی کی ہوگی۔ امام خامنہ ای 27 مئی 2017
1 دسمبر 2025
خداوند عالم نے قرآن کریم میں کچھ وعدے کیے ہیں، ان وعدوں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ خدا نے وعدہ کیا ہے: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔ (سورۂ محمد، آیت 7) اسی طرح وعدہ کیا ہے: جو کوئی اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ (سورۂ حج، آیت 40) اگر تم خدا کی نصرت کرو تو خدا تمھیں ثبات قدم عطا کرے گا اور تمھاری نصرت کرے گا۔ یہ خدا کے وعدے ہیں اور بلاشبہ خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (سورۂ آل عمران، آيت 9) خدا اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ امام خامنہ ای 4 جون 2023
24 نومبر 2025
خداوند عالم کا سلام ہو اس عظیم اور ثابت قدم قوم، غزہ کے عوام پر جنھوں نے قرآن کی جاوداں آیات کی عملی تفسیر پیش کر دی ہے۔ مسلمانو! ضرور تمھیں تمھارے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمایا جائے گا اور تمھیں اہل کتاب مشرکین سے بڑي دل آزار باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم صبر و ضبط سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک یہ بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔ (سورۂ آل عمران، آیت 186) حق و باطل کے اس کارزار میں آخری جیت حق کی ہی ہے اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کرنے والی فلسطین کی یہ مظلوم قوم دشمن پر غالب آ کر رہے گی۔ امام خامنہ ای 7 دسمبر 2008
17 نومبر 2025
شہداء ہم سے کہتے ہیں: اور اپنے ان پسماندگان کے بارے میں بھی، جو ابھی ان کے پاس نہیں پہنچے ہیں، خوش اور مطمئن ہیں کہ انھیں کوئی خوف نہیں ہے اور نہ کوئی حزن و ملال ہے۔ (سورۂ آل عمران، آیت نمبر 170) یہ راستہ، وہ راستہ ہے جس میں کوئي خوف اور رنج وغم نہیں ہے، ڈر اور ہراس نہیں ہے، یہ خدا کی راہ ہے، اس راہ میں ثابت قدم رہنا چاہیے، اس راہ پر پوری طاقت کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے، اس راہ میں دشمن کے وسوسوں سے پیروں میں لغزش نہ آئے۔ ایرانی قوم کو چاہیے کہ شہیدوں کا پیغام سننے کے بعد اپنا اتحاد، اپنی یکجہتی، اپنا جذبہ اور اپنی کوشش اور زیادہ بڑھا دے۔ شہیدوں کا پیغام ہمارے لیے یہ ہے۔ امام خامنہ ای 21 نومبر 2021
10 نومبر 2025
شہدا کا نام، حیات اور بقا کا متقاضی ہے۔ یعنی راہ خدا میں قربانی کی خاصیت اور پہچان یہ ہے کہ شہید کا نام دنیا میں جاوداں رہتا ہے: تو جو جھاگ ہے وہ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز (پانی اور دھات) لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے۔ (سورۂ رعد، آیت 17) شہادت کا خاصہ اور راہ خدا میں قربانی کی خاصیت اور پہچان یہ ہے کہ قدرتی طور پر شہید باقی اور جاوداں ہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر مخالف اسباب و عوامل میدان میں اتر آئیں تو وہ مؤثر نہیں ہوتے۔ کیوں نہیں، بہت سے دوسرے گرانقدر اقدار کی طرح جن کی مخالف چیزیں میدان میں آ گئيں اور اقدار کے حامیوں نے کما حقہ دفاع نہیں کیا تو باطل نے حق پر غلبہ حاصل کر لیا۔ امام خامنہ ای 27 ستمبر 2023
3 نومبر 2025
خداوند عالم نے دشمنیوں سے مقابلے کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک دستورالعمل سپرد کیا۔ بعثت کے آغاز سے ہی خداوند متعال نے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا۔ خداوند عالم فرماتا ہے: اور اپنے پروردگار کے لیے صبر کیجیے۔ (سورۂ مدثر، آیت 10) اور سورۂ مزمل میں بھی، ارشاد فرماتا ہے: اور ان (کفار) کی باتوں پر صبر کیجیے۔ (سورۂ مزمل، آیت 10) قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی اسی بات کو دہرایا گیا ہے۔ مگر دو جگہوں پر کہا گیا ہے: (میرے فرمان کے مطابق) استقامت سے کام لیجیے۔ (سورۂ شوری، آیت 15) صبر یعنی ان اہداف و مقاصد پر ڈٹے رہنا جو ہم نے خود ترتیب دیے ہیں۔ صبر یعنی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا، یہی صبر کا مطلب ہے ۔ امام خامنہ ای 22 مارچ 2020
27 اکتوبر 2025
رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانے اور آنحضرت کو یاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس آیت کے مضمون پر جس میں خدا نے فرمایا ہے: بے شک تمھارے لیے پیغمبر کی ذات میں (پیروی کے لیے) بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔ (سورۂ احزاب، آیت 21) پیغمبر اکرم اسوۂ حسنہ ہیں، یہ بات قرآن نے صاف لفظوں میں کہی ہے۔ اسوہ ہیں! اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی وہ ایک نمونہ ہیں اور ہمیں اس نمونے کی پیروی کرنی چاہیے۔ وہ ایک بلند چوٹی پر فائز ہیں۔ ہمیں، جو اس پستی میں ہیں، اس چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ انسان جہاں تک بھی جا سکتا ہے آگے بڑھے، اس چوٹی کی طرف بڑھتا جائے، "اسوہ" کا مطلب یہ ہے۔ امام خامنہ ای 14 اکتوبر 2022
20 اکتوبر 2025