اسلامی گھرانہ: کرداروں میں تبدیلی غلط ہے

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد کو گھر میں عورت کا کردار مل جاتا ہے اور عورت، مطلق العنان حاکم بن جاتی ہے۔ وہ مرد پر حکم چلاتی ہے، اس سے کہتی ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو اور مرد بھی دست بستہ سر جھکا دیتا ہے۔ یہ مرد وہ نہیں ہوسکتا جس پر عورت تکیہ کر سکے، عورت اچھے سہارے کو پسند کرتی ہے۔ دوسری جانب بعض اوقات مرد بھی کچھ چیزیں عورت پر تھوپ دیتا ہے جیسے (گھر کی) تمام خریداری، کام کاج اور آنے جانے والوں سے بات چیت کرنا اور مسائل کا نپٹانا عورت کے ذمے ڈال دیتا ہے۔ گھرانے کے کرداروں میں تبدیلی کا نقصان کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 12 مارچ 2000

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد کو گھر میں عورت کا کردار مل جاتا ہے اور عورت، مطلق العنان حاکم بن جاتی ہے۔ وہ مرد پر حکم چلاتی ہے، اس سے کہتی ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو اور مرد بھی دست بستہ سر جھکا دیتا ہے۔ یہ مرد وہ نہیں ہوسکتا جس پر عورت تکیہ کر سکے، عورت اچھے سہارے کو پسند کرتی ہے۔ دوسری جانب بعض اوقات مرد بھی کچھ چیزیں عورت پر تھوپ دیتا ہے جیسے (گھر کی) تمام خریداری، کام کاج اور آنے جانے والوں سے بات چیت کرنا اور مسائل کا نپٹانا عورت کے ذمے ڈال دیتا ہے۔ گھرانے کے کرداروں میں تبدیلی کا نقصان کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں ہے۔

امام خامنہ ای

12 مارچ 2000

22 نومبر 2025

اسلامی گھرانہ: کرداروں میں تبدیلی غلط ہے