کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد کو گھر میں عورت کا کردار مل جاتا ہے اور عورت، مطلق العنان حاکم بن جاتی ہے۔ وہ مرد پر حکم چلاتی ہے، اس سے کہتی ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو اور مرد بھی دست بستہ سر جھکا دیتا ہے۔ یہ مرد وہ نہیں ہوسکتا جس پر عورت تکیہ کر سکے، عورت اچھے سہارے کو پسند کرتی ہے۔ دوسری جانب بعض اوقات مرد بھی کچھ چیزیں عورت پر تھوپ دیتا ہے جیسے (گھر کی) تمام خریداری، کام کاج اور آنے جانے والوں سے بات چیت کرنا اور مسائل کا نپٹانا عورت کے ذمے ڈال دیتا ہے۔ گھرانے کے کرداروں میں تبدیلی کا نقصان کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 12 مارچ 2000
22 نومبر 2025
گھرانے میں عورت، کبھی بیوی کے کردار میں سامنے آتی ہے، کبھی ماں کے کردار میں سامنے آتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی خصوصیات ہیں، بیوی کے کردار میں عورت سب سے پہلے آرام و سکون کا مظہر ہے کیونکہ زندگی تلاطم اور الجھنوں سے بھری ہوئي ہے۔ مرد اس دریائے زندگی میں کام کاج کی مشغولیت اور پریشانیوں سے الجھا ہوتا ہے۔ وہ جب گھر آتا ہے تو اسے آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اطمینان اور راحت چاہتا ہے۔ یہ چین اور سکون گھر میں بیوی پیدا کرتی ہے۔ مرد عورت کے پہلو میں آرام و سکون کا احساس کرے۔ عورت آرام وسکون کا سرچشمہ ہے ۔ عورت، بیوی کی حیثیت سے مکمل عشق اور آرام و سکون ہے۔ امام خامنہ ای 2 فروری 2023
8 نومبر 2025
بعض غلط مکاتب اور نظریات، جو عورتوں سے مخصوص بھی نہیں ہیں، مرد بھی کبھی کبھی انہی مکاتب کی پیروی کرتے ہیں اور یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئيے اس ترازو (کے پلڑوں) کی چیزیں یعنی مرد اور عورت کے کردار آپس میں بدل دیں۔ اگر ہم یہ کام کردیں تو کیا ہو جائے گا؟ آپ سوائے اس کے کہ ایک بڑی غلطی کریں گے، سوائے اس کے کہ ایک باغ اور گلستاں کو، جو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، برباد کریں گے، کچھ اور نہیں کریں گے۔ امام خامنہ ای 12 مارچ 2000
17 نومبر 2024