قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب جوش وجذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا ہے

خداوند عالم نے دشمنیوں سے مقابلے کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دستورالعمل سپرد کیا۔ بعثت کے آغاز سے ہی خداوند متعال نے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا۔ صبر ان اہداف و مقاصد پر ڈٹے رہنے سے عبارت ہے جو ہم نے خود ترتیب دیے ہیں۔ صبر یعنی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا، یہی صبر کا مطلب ہے۔ امام خامنہ ای 22 مارچ 2020

خداوند عالم نے دشمنیوں سے مقابلے کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دستورالعمل سپرد کیا۔ بعثت کے آغاز سے ہی خداوند متعال نے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا۔ صبر ان اہداف و مقاصد پر ڈٹے رہنے سے عبارت ہے جو ہم نے خود ترتیب دیے ہیں۔ صبر یعنی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا، یہی صبر کا مطلب ہے۔

امام خامنہ ای

22 مارچ 2020

29 اکتوبر 2024

قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب جوش وجذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا ہے