ہم نے جس شخص کو کوئی برا کام کرتے نہیں دیکھا، ہم اس کی عام اور نارمل بات اعتماد کرلیتے ہیں جبکہ وہ ایک انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہے، ممکن ہے وہ بعد میں مکر جائے لیکن ہم اعتماد کر لیتے ہیں! اب دیکھیے کہ خداوند متعال نے مومنین سے کتنے وعدے کیے ہیں، مدد کا وعدہ ، ہدایت کا وعدہ، تعلیم کا وعدہ: "خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو اور اللہ تمھیں صحیح راستے کی تعلیم دے گا۔" (سورۂ بقرہ، آیت 282) حفاظت و نگہبانی کا وعدہ، دنیا کے امور میں امداد کا وعدہ، خدا نے ہم سے اتنے زیادہ وعدے کیے ہیں، یقیناً یہ وعدے غیر مشروط نہیں ہیں، ان کی کچھ شرطیں ہیں اور یہ شرطیں بہت دشوار بھی نہیں ہیں، ہم انھیں پورا کرسکتے ہیں۔ امام خامنہ ای 27 جولائی 2009
18 فروری 2025
خداوند عالم نے قرآن کریم میں کچھ وعدے کئے ہیں، ان وعدوں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ خدا نے وعدہ کیا ہے: "انْ تَنْصُرُوا اللّہَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اقْدَامَكُمْ" (اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔ سورۂ محمد، آیت 7) اگر خدا کی نصرت کرو تو خدا تمھیں ثبات قدم عطا کرے گا اور تمھاری نصرت کرے گا۔ امام خامنہ ای 4 جون 2023
26 نومبر 2024