اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4/1/2012
17 جنوری 2026
لڑکی اور لڑکا، دلہن اور دولھا آپس کے رشتۂ محبت کو مضبوط کریں کیونکہ محبت وہ بندھن ہے جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھتا ہے، دونوں باہم اور محفوظ رہتے ہیں، محبت انھیں جدا نہیں ہونے دیتی، یہ بہت اچھی چیز ہے۔ محبت ہوگی تو وفاداری بھی ہوگی، بے وفائی، بدقماشی اور ایک دوسرے سے خیانت و کدورت ان کے درمیان نہیں پیدا ہوگی، محبت ہوگی تو ماحول انس و الفت کا ہوگا، زندگی کی فضائیں اچھی، قابل استفادہ، شیریں و خوشگوار ہو جائیں گی۔ امام خامنہ ای 15 دسمبر 1997
1 نومبر 2025
شادی کا اصل مسئلہ دو وجودوں کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مفاہمت، انسیت اور یگانگت سے عبارت ہے۔ یقیناً یہ ایک قدرتی امر ہے لیکن اسلام نے جو طریقے، رسم و رواج اور اصول و آئین قرار دیے ہیں اور شادی کے لیے جو احکام بیان کیے ہیں، ان کے ذریعے اس میں دوام و برکت پیدا ہوتی ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے، ہر ایک کو دوسرے کے درد و اور خواہشوں کو سمجھنا اور فریق مقابل کی ہمراہی کرنا چاہیے، اسی کو کہتے ہیں سمجھنا۔ مشہور کہاوت کے مطابق: زندگی میں افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہے، یہ چیزیں محبت بڑھا دیتی ہیں۔ امام خامنہ ای 25 اگست 1992
19 اپریل 2025
اے میرے معبود! اپنے ذکر کی محبت و شیفتگی مسلسل مجھے الہام کرتا رہ، میری ہمت کو تیرے ناموں کی کامیابی کی نسیم اور تیرے ہاں مرتبۂ قدس میں قرار دے۔ (مناجات شعبانیہ کا ایک فقرہ)
15 فروری 2025
اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2012
19 جنوری 2025
اسلام کہتا ہے کہ شوہر اور زوجہ دونوں کو نبھانا چاہیے۔ دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بنا کر رکھنا چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ گھریلو زندگی ایک دوسرے سے عشق و محبت کے ساتھ، پوری طرح اطمینان و سکون اور شفاف طریقے سے گزاریں گے، جاری رکھیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ گھرانہ وہی صحیح سالم گھرانہ ہوگا جیسا اسلام چاہتا ہے۔ امام خامنہ ای 2 اگست 1995
15 دسمبر 2024
شوہر اور زوجہ آپسی رشتۂ محبت کو قوی کریں کیونکہ محبت وہ بندھن ہے جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھتا ہے، دونوں محفوظ رہتے ہیں، محبت انھیں جدا نہیں ہونے دیتی، یہ بہت اچھی چیز ہے۔ محبت ہوگی تو وفاداری بھی ہوگی، بے وفائی، بدقماشی اور ایک دوسرے سے خیانت و کدورت ان کے درمیان نہیں پیدا ہوگی۔ امام خامنہ ای 15 دسمبر 1997
27 اکتوبر 2024
محبت ہوگی تو وفاداری بھی ہوگی، بے وفائی، بدقماشی اور ایک دوسرے سے خیانت و کدورت ان کے درمیان نہیں پیدا ہوگی ، محبت ہوگی تو ماحول انس و الفت کا ماحول ہوگا۔
18 نومبر 2023