"نماز" حقیقی معنیٰ میں دین کا عمود یعنی ستون ہے۔ عمود اور ستون کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو چھت ڈھے جائے گي، عمارت، عمارت نہیں رہے گي، نماز یہ ہے۔ لہٰذا دین کا پورا ڈھانچہ نماز پر ٹکا ہوا ہے۔ کون سی نماز اس ڈھانچے کی حفاظت کرسکتی ہے؟ وہ نماز جو مطلوبہ خصوصیات کی حامل ہو: جو تمام برائیوں اور ممنوعہ چیزوں سے روکے، جو ذکر پروردگار کے ہمراہ ہو۔ میری نظر میں مسجدوں کے محترم ائمہ جماعت کے لیے ایک اہم کام لوگوں کے سامنے نماز کے مسئلے کو بیان کرنا ہے کہ ہم نماز کی قدر و منزلت کو سمجھیں۔ اگر یہ (کام) ہو گیا تو نمازوں کا معیار بہتر ہو جائے گا۔ حقیقت امر یہ ہے کہ عموماً ہماری نمازیں یا تو معیار سے عاری ہوتی ہیں یا ان میں ضروری معیار نہیں ہوتا۔ ہمیں نماز کے اذکار کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 اگست 2016
18 فروری 2026
عزیز بھائیو! جوانی میں ہی تہذیب نفس کیجیے، ایک نہایت ہی اہم اور حساس زمانہ آپ کے سامنے ہے، عالمی سطح پر اس ملک، اس نظام اور اس عظیم اسلامی انقلاب کو آپ کی ضرورت پڑے گی، معنوی لحاظ سے اپنی تعمیر کیجیے۔ یقیناً یہ ایک آسان کام ہے! لیکن اس کی انجام دہی عزم محکم کی طالب ہے، یہ کام یعنی تقویٰ، تقویٰ یعنی گناہوں سے دوری، یعنی واجبات کی ادائیگی اور حرام کاموں سے پرہیز، اپنے امور کو خلوص کے ساتھ انجام دینا اور ریا کاری اور فریب سے دور رہنا۔ امام خامنہ ای 20 فروری 1992
11 فروری 2026
ہر نعمت کے لیے شکر ضروری ہے۔ نعمت کا شکر یہ ہے کہ انسان نعمت کو سمجھے اور اسے پہچانے اور اس کا جو تقاضا ہے، اسی کے مطابق کام کرے، اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ سمجھے کہ یہ نعمت، خدا کی جانب سے ہے اور اسے خدا کی راہ میں استعمال کرنا چاہیے۔ رجب کا مہینہ ان ہی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد شعبان المعظم کا مہینہ ہے اور وہ بھی ایک دوسری نعمت ہے اور یہ دونوں مہینے اہل توحید اور عرفاء کی نظر میں رمضان المبارک کے مہینے کی تمہید ہیں ... ماہ رجب کی قدر و قیمت کو سمجھیے، اس مہینے میں پروردگار عالم سے زیادہ سے زیادہ توسل کیجیے، یاد خدا میں رہیے اور خدا کے لیے کام کیجیے۔ امام خامنہ ای 26 اپریل 2015
28 جنوری 2026
آپ کی جسمانی نعمت، آنکھ کی نعمت، کان کی نعت، زبان کی نعمت، ہاتھ کی نعمت، پاؤں کی نعمت یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں، وہ نعمتیں ہیں کہ انسان جن کی قدر و قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، یہ اس قدر قیمتی ہیں کہ کسی بھی مادی معیار پر ان کو تولا اور بدلا نہیں جاسکتا۔ اگر ان سے صحیح فائدہ نہ اٹھائیں اور یوں ہی چھوڑ دیں یا غلط راہ میں استعمال کریں اور ان نعمتوں کو الہی معصیت کی راہ میں استعمال کریں تو یہ کفران نعمت ہے۔ خداوند عالم ہمیں اور آپ کو نعمتوں سے نوازتا ہے (لیکن) ہم ان نعمتوں کو گناہ اور خدا کی معصیت کے لیے ایک سیڑھی کی طرح یا ایک گزرگاہ کی طرح استعمال کریں! یہ الہی نعمت کے کفران کی بدترین صورت ہے۔ امام خامنہ ای 30 اپریل 2017
21 جنوری 2026
ہمارا معاشرہ امیر المومنین علیہ السلام کے زہد کی سمت میں آگے بڑھے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امیرالمومنین کی طرح زاہد بن جائیں کیونکہ نہ ہم بن سکتے ہیں نہ ہم سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہم کو ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے یعنی ہمیں فضول خرچی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں ہم امیرالمومنین کے شیعہ کہے جائیں گے۔ فرمایا ہے: "ہمارے لیے زینت بنو۔" ہمارے لیے زینت بننے کا کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ تمھارا عمل ایسا ہو کہ جب کوئی تمھیں دیکھے تو کہے: واہ واہ! امیر المومنین کے شیعہ کس قدر اچھے ہیں! امام خامنہ ای 21 ستمبر 2016
14 جنوری 2026
امت اسلامیہ کے درد و رنج کے اسباب بہت ہیں۔ جب ہم تفرقے کا شکار ہوں، جب ایک دوسرے کے ہمدرد و نہ ہوں جب ہم حتیٰ ایک دوسرے کے بدخواہ بن گئے ہوں تو اس کا نتیجہ کمزوری اور عزت گنوانا ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے لوگوں کو تاریخ کے مطالعے کی دعوت دی ہے، وہ فرماتے ہیں: پچھلے لوگوں کو دیکھو، جب وہ متحد تھے تو اُن کو کیا عزت و وقار حاصل ہوا، کیا کیفیت پیدا ہوگئی! لیکن جب ان کے درمیان آپس میں جدائی، اختلاف اور دشمنی حکمراں ہو گئی تو خداوند متعال نے عزت و کرامت کا لباس ان کے تن سے اتار لیا۔ وہ شرف و مقام جو انھیں حاصل تھا، وہ عزت و کرامت جو وہ زیب تن کیے ہوئے تھے اور وہ نعمتیں جو خداوند عالم نے ان کو دے رکھی تھیں، اختلاف اور تفرقے کے باعث ان سے سلب کرلی گئیں۔ امام خامنہ ای 14 اکتوبر 2022
7 جنوری 2026
اس وقت ہمارے ملک میں روحانیت کی طرف جو توجہ اور توسل ہے، وہ یقینا ہمارے کام میں مددگار ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ واقعی انسان کسی چیز کے سلسلے میں راہیں مسدود پاتا ہے لیکن خداوند متعال کی طرف قلبی توجہ اور اس سے توسل واقعی بند راہوں کو کھول دیتا ہے جس پر انشاء اللہ ہم سب کاربند رہیں گے۔ مستقبل کے افق کو میں بہت ہی درخشاں دیکھ رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ اللہ کی توفیق سے، اللہ کی مدد سے اس ملک کا مستقبل، ان شاء اللہ اپنے ماضی کی نسبت ہر رخ سے بہتر ہوگا، چاہے وہ مادی پہلوؤں سے ہو یا روحانی و معنوی پہلوؤں سے ہو۔ امام خامنہ ای 4 ستمبر 2017
31 دسمبر 2025
ہم انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو بھلا دیتے ہیں، اصلاح کے لیے لازمی (امور سے) غفلت خود اپنے اندر اصلاح کی طرف سے بے توجہی ہے، اگر غفلت ختم ہوجائے اور اگر عزم و ارادہ وجود میں آجائے تو ہر چیز کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ پہلے مرحلے میں، جو تمہیدی مرحلہ اور ہمارے فرائض کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہے، ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں اور یہی بنیادی کام ہے یعنی یہ تمام کام، اپنی اصلاح کا مقدمہ ہیں، یہ تمام کام اپنے آپ سے خدا کو راضی رکھنے کی تمہید ہیں۔ تمام کوششیں اور تمام جد و جہد اسی لیے ہے کہ ہم خدا کو خود سے راضی رکھ سکیں اور خود کو اس کمال تک پہنچا سکیں، جو تخلیق میں ہمارے لیے پیش نظر رکھا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 30 اکتوبر 2005
26 نومبر 2025
آپ تمام عزیز جوانوں کے لیے میری سفارش، تہذیب نفس (یا تعمیر ذات) کی ہے۔ تہذیب نفس بہت اہم ہے، انفرادی پہلوؤں سے بھی اور اجتماعی پہلوؤں سے بھی، قرآن کے ساتھ انس، قرآن کے ساتھ رابطہ، نماز میں قلبی توجہ، اول وقت نماز کی ادائيگي، دعاؤں پر توجہ، تہذیب نفس کے لیے ضروری ہے۔ میری نظر میں جس وقت آپ کی روحانی اور معنوی بنیادیں قوی ہوں گی تو فکری میدان میں بھی، فیصلے کرنے کے میدان میں بھی اور عملی میدان میں بھی آپ اپنے اندر زیادہ قوت و توانائی پیدا کرلیں گے اور ہمیں اپنی نوجوان نسل میں ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ امام خامنہ ای 17 مئی 2020
19 نومبر 2025
نماز کے ذریعے نوجوان کا دل نورانی ہو جاتا ہے، وہ امید حاصل کر لیتا ہے، روحانی تازگی اور شادابی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ حالات خاص طور پر نوجوانوں سے متعلق ہیں اور زیادہ تر جوانی کے ایام سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لذت اٹھا سکتے ہیں اور اگر خدا ہم کو اور آپ کو توفیق عطا کر دے کہ پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھ سکیں تو دیکھیں گے کہ پوری توجہ کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز میں انسان سیر نہیں ہوتا۔ انسان جس وقت پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کو وہ لذت ملتی ہے جو تمام مادی لذتوں میں نہیں پائی جاتی، یہ توجہ (اور اخلاص) کا نتیجہ ہے۔ امام خامنہ ای 19 نومبر 2008
12 نومبر 2025
ظلمات وہ تمام چیزیں ہیں جنھوں نے پوری تاریخ میں انسان کی زندگی کو تاریک اور تلخ کر دیا ہے، زہر آلود کر دیا ہے۔ یہ سب ظلمات ہیں۔ جہالت ظلمت یعنی تاریکی ہے، غربت تاریکی ہے، ظلم تاریکی ہے۔ امتیازی سلوک تاریکی ہے، شہوات میں ڈوب جانا تاریکی ہے، اخلاقی برائیاں اور سماجی نقائص یہ سب ظلمات ہیں۔ یہ وہ تاریکیاں ہیں جنھوں نے پوری تاریخ میں بشریت کو رنج اور دکھ دیے ہیں۔ پیغمبر اعظم نے ان تمام مسائل کا حل، فکری حل بھی اور عملی حل بھی بشریت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگر ان مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو علاج یہ ہیں۔ یہ پیغمبر کی شریعت اور قرآنی تعلیمات، بشریت کے مسائل کا علاج ہیں۔ یہ پیغمبر اسلام نے بشریت کو پیش کیا ہے۔ امام خامنہ ای 3 اکتوبر 2023
5 نومبر 2025
دعا، خداوند متعال کا عشق دل میں برقرار رکھتی ہے۔ تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا مظہر ذات اقدس پروردگار ہے۔ دعا اور خداوند تعالی کے ساتھ انس اور ہم کلامی، یہ محبت انسان کے دل میں پیدا کردیتی ہے۔ دعا زندگی کی مشکلات کے سامنے صبر و حوصلے کی قوت انسان کو بخشتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کے دوران کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے مشکلیں اور سختیاں اس کے دامنگیر ہو جاتی ہیں۔ دعا انسان کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے اور انسان کو حادثات کے مقابل قوت و استحکام بخش دیتی ہے۔ لہذا روایت میں دعا کو (مومن کے) اسلحے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اکتوبر 2005
29 اکتوبر 2025