درس اخلاق: غفلت کا خاتمہ، رضائے الہی کے حصول کی تمہید
ہم انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو بھلا دیتے ہیں، اصلاح کے لیے لازمی (امور سے) غفلت خود اپنے اندر اصلاح کی طرف سے بے توجہی ہے، اگر غفلت ختم ہوجائے اور اگر عزم و ارادہ وجود میں آجائے تو ہر چیز کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ پہلے مرحلے میں، جو تمہیدی مرحلہ اور ہمارے فرائض کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہے، ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں اور یہی بنیادی کام ہے یعنی یہ تمام کام، اپنی اصلاح کا مقدمہ ہیں، یہ تمام کام اپنے آپ سے خدا کو راضی رکھنے کی تمہید ہیں۔ تمام کوششیں اور تمام جد و جہد اسی لیے ہے کہ ہم خدا کو خود سے راضی رکھ سکیں اور خود کو اس کمال تک پہنچا سکیں، جو تخلیق میں ہمارے لیے پیش نظر رکھا گیا ہے۔
امام خامنہ ای
30 اکتوبر 2005
ہم انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ ہم اپنی خطاؤں کو بھلا دیتے ہیں، اصلاح کے لیے لازمی (امور سے) غفلت خود اپنے اندر اصلاح کی طرف سے بے توجہی ہے، اگر غفلت ختم ہوجائے اور اگر عزم و ارادہ وجود میں آجائے تو ہر چیز کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ پہلے مرحلے میں، جو تمہیدی مرحلہ اور ہمارے فرائض کا ایک بڑا اور اہم حصہ ہے، ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں اور یہی بنیادی کام ہے یعنی یہ تمام کام، اپنی اصلاح کا مقدمہ ہیں، یہ تمام کام اپنے آپ سے خدا کو راضی رکھنے کی تمہید ہیں۔ تمام کوششیں اور تمام جد و جہد اسی لیے ہے کہ ہم خدا کو خود سے راضی رکھ سکیں اور خود کو اس کمال تک پہنچا سکیں، جو تخلیق میں ہمارے لیے پیش نظر رکھا گیا ہے۔
امام خامنہ ای
30 اکتوبر 2005
26 نومبر 2025