انسان کا مرد یا عورت ہونا ایک ثانوی مسئلہ ہے، ایک عارضی بات ہے جو صرف زندگی کے امور میں معنی و مفہوم پیدا کرتی ہے اور انسانی کمال و ارتقا کےاصل سفر میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہاں تک کہ ان کے کام بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اُس جوان کی مجاہدت و قربانی کا ثواب، جو اپنی جان ہتھیلی پر لیے میدان جنگ میں گیا ہو، اس کی بیوی کو دیا جاتا ہے کیونکہ بیوی کے کام کی زحمت و مشقت بھی اس سے کم نہیں ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ یہ مرد معاشرے میں ایک مفید و کارآمد شخص ثابت ہو تو اس عورت کو بھی گھر کے اندر ایک اچھی بیوی ثابت ہونا پڑے گا ورنہ یہ چیز ممکن نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2012
14 فروری 2026
جب تک خدیجۂ کبریٰ، فاطمۂ زہرا اور زینب کبریٰ جیسی درخشاں شخصیات ہیں، تب تک خواتین مخالف قدیم و جدید حربے ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہماری ہزاروں کربلائی خواتین نے نہ صرف ظاہری ظلم و ستم کی سیاہ لکیروں کو درہم برہم کردیا ہے بلکہ خواتین پر کیے جانے والے ماڈرن مظالم کو ذلیل و رسوا اور بے آبرو کرکے رکھ دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ خواتین کی الہی عظمت و کرامت، عورت کے حقوق میں وہ عظیم ترین حق ہے، جس سے ماڈرن دنیا ہرگز آشنا نہیں ہے اور اب اس سے آشنائی کا وقت آچکا ہے۔ امام خامنہ ای 6 مارچ 2013
7 فروری 2026
ظلم، امتیازی سلوک، توہین ہر حال میں غلط ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے اچھے مرد ہوں اور آپ کی زوجہ مثال کے طور پر تعلیم اور معلومات کے لحاظ سے ایک کم تعلیم یافتہ خاتون ہو یا ایک نچلے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو، تب بھی آپ کو اس پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے یا اس کی تھوڑی سی بھی توہین کرنے کا حق نہیں ہے، زوجہ وہی زوجہ ہے ابد تک کے لیے۔ شوہر کو زوجہ کی ذرہ برابر بھی توہین کا حق نہیں ہے۔ عورت کو بھی شوہر کی اہانت کا حق نہیں ہے۔ کبھی خاتون ایک پڑھی لکھی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہوتی ہے جس کی شادی مثال کے طور پر ایک مزدور سے ہوئي ہے۔ اسے بھی شوہر کی توہین و تذلیل کا حق نہیں ہے۔ مرد بہرحال اس کے لیے سہارا ہے۔ اسے اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 فروری 2000
31 جنوری 2026
شادی کی عمر کا مسئلہ بھی، جس پر اسلامی کتابوں میں زور دیا گیا ہے کہ شادی کی عمر کہیں بہت زیادہ نہ ہوجائے اور جوانوں کو جلدی شادی کرلینی چاہیے، جنسی کشش کے خطرے سے حفاظت کی وجہ سے ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کی شادی کر دی جائے، جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، جی نہیں، نوجوان اور جوان لڑکے اور لڑکیاں، مرد اور عورت جہاں تک ہو سکے بروقت شادی کرلیں تو یہ اسلام کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہے، خود ان کے لیے بھی یقیناً بہت بہتر ہے اور معاشرے کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔ امام خامنہ ای 27 دسمبر 2023
24 جنوری 2026
اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4/1/2012
17 جنوری 2026
اگر نسلیں، اپنے ذہنی اور فکری نتائج بعد کی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتی ہیں اور معاشرہ اپنے ماضی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو یہ صرف گھر اور خاندان کے ساتھ ممکن ہے۔ گھر کے ماحول میں ہی سب سے پہلے ایک انسان کی پوری شخصیت اس معاشرے کی تہذیبی بنیادوں پر شکل اختیار کر تی ہے اور یہ ماں باپ ہی ہیں جو بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کے تصنع کے بغیر بالکل قدرتی انداز میں انسان کے ذہن وفکر و عمل پر اثر مرتب کرتے اور اپنی معلومات، عقائد اور مقدسات وغیرہ اپنے بعد کی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2001
10 جنوری 2026
بہت سی بیویاں ہیں جو اپنے شوہروں کو جنتی بنا دیتی ہیں اور بہت سے شوہر ہیں جو اپنی بیوی کو حقیقی معنی میں سعادتمند کردیتے ہیں اور اس کا الٹا بھی ہے ممکن ہے (شادی سے پہلے) مرد اچھے ہوں اور ان کی بیویاں ان کو جہنمی بنا دیں۔ یا بیویاں اچھی رہی ہوں کہ جن کو ان کے شوہروں نے جہنمی بنا دیا ہو۔ چنانچہ اگر شوہر اور زوجہ دونوں اس بات پر توجہ دیں تو وہ اچھی نصیحتوں کے ذریعے اور اچھے باہمی تعاون سےگھر کے اندر دین و اخلاق کی باتیں کرکے اور وہ بھی زبانی باتوں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے عمل وکردار کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایسی صورت میں زندگی واقعی مکمل اور خوبصورت ہوجائے گی۔ امام خامنہ ای 2 مارچ 1999
3 جنوری 2026
عورت کی ایک اہم ترین ذمہ داری گھر کی خانہ داری ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ میرا یہ ماننا نہیں ہے کہ عورتوں کو سیاسی اور سماجی کاموں سے دور رہنا چاہیے، نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس کے معنی یہ لیے جائيں کہ ہم "خانہ داری" کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو یہ گناہ ہوگا۔ خانہ داری، ایک کام ہے، بڑا کام ہے، اہم ترین و حساس ترین کام ہے، مستقبل ساز کام ہے۔ افزائش نسل ایک عظیم مجاہدت ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئی 2013
27 دسمبر 2025
میں پورے ملک کے تمام لوگوں سے تاکید کرتا ہوں کہ شادیوں کو آسان بنائيں۔ بعض ہیں جو شادی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ مہر کی بھاری رقم اور جہیز کی بھاری (اور لمبی چوڑی) فہرست، شادی کو مشکل بناتی ہے۔ لڑکوں کے گھر والے بھاری جہیز کی توقع رکھتے ہیں اور لڑکیوں کے گھر والے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جہیز، استقبال (بارات) اور عقد و رخصتی کی محفلوں کو زیادہ سے زیادہ رنگین کردیتے ہیں!! کیوں؟ آپ جانتے ہیں کہ اس کا اثر کیا ہوتا ہے؟ اس کا اثر یہ ہے کہ لڑکیاں اور لڑکے بغیر شادی کے (کنوارے) گھر میں پڑے رہتے ہیں کوئی شادی کا نام لینے کی جرات نہیں کرتا۔ امام خامنہ ای 23 نومبر 1994
29 نومبر 2025
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد کو گھر میں عورت کا کردار مل جاتا ہے اور عورت، مطلق العنان حاکم بن جاتی ہے۔ وہ مرد پر حکم چلاتی ہے، اس سے کہتی ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام نہ کرو اور مرد بھی دست بستہ سر جھکا دیتا ہے۔ یہ مرد وہ نہیں ہوسکتا جس پر عورت تکیہ کر سکے، عورت اچھے سہارے کو پسند کرتی ہے۔ دوسری جانب بعض اوقات مرد بھی کچھ چیزیں عورت پر تھوپ دیتا ہے جیسے (گھر کی) تمام خریداری، کام کاج اور آنے جانے والوں سے بات چیت کرنا اور مسائل کا نپٹانا عورت کے ذمے ڈال دیتا ہے۔ گھرانے کے کرداروں میں تبدیلی کا نقصان کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 12 مارچ 2000
22 نومبر 2025
ایک دوسر ے کی نسبت شوہر و زوجہ کے باہمی فرائض مختلف ہیں لیکن ان میں توازن پایا جاتا ہے۔ خداوند عالم قرآن میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 288 میں ارشاد فرماتا ہے: اور دستورِ شریعت کے مطابق عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جس طرح کہ مردوں کے حقوق ہیں۔ جس مقدار میں حق ان (بیویوں) کا ہے اسی مقدار میں حق ان کے مد مقابل (شوہروں) کا ہے یعنی جتنی ایک بات حق کے طور پر ان (خواتین) سے تعلق رکھتی ہے اتنی ہی ایک بات فریق مقابل سے بھی تعلق رکھتی ہے مطلب یہ ہے کہ اُن کے بھی کندھوں پر اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ یعنی کسی پر جو بھی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کے بدلے میں اسے ایک حق بھی دیا گیا ہے۔ جسے بھی جو امتیاز دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں ایک ذمہ داری بھی رکھی گئي ہے؛ ایک مکمل توازن۔ امام خامنہ ای 2 جنوری 2023
15 نومبر 2025
گھرانے میں عورت، کبھی بیوی کے کردار میں سامنے آتی ہے، کبھی ماں کے کردار میں سامنے آتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی اپنی خصوصیات ہیں، بیوی کے کردار میں عورت سب سے پہلے آرام و سکون کا مظہر ہے کیونکہ زندگی تلاطم اور الجھنوں سے بھری ہوئي ہے۔ مرد اس دریائے زندگی میں کام کاج کی مشغولیت اور پریشانیوں سے الجھا ہوتا ہے۔ وہ جب گھر آتا ہے تو اسے آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اطمینان اور راحت چاہتا ہے۔ یہ چین اور سکون گھر میں بیوی پیدا کرتی ہے۔ مرد عورت کے پہلو میں آرام و سکون کا احساس کرے۔ عورت آرام وسکون کا سرچشمہ ہے ۔ عورت، بیوی کی حیثیت سے مکمل عشق اور آرام و سکون ہے۔ امام خامنہ ای 2 فروری 2023
8 نومبر 2025