"اس جنگ کے اہم نکات میں سے ایک رہبر معظم کی تدابیر تھیں۔ انھوں نے پہلے دن سے ہی بہت غور سے امور پر نظر رکھی، تدبیر کی، کمانڈروں کو مقرر کیا، جنگی امور کی انجام دہی کی اور عوام سے بات کی۔ لہٰذا ان حالات میں، اس رہنما اور اس رہبر کی مکمل حمایت کی جانی چاہیے، البتہ اس بات کا عقلی پہلو بھی بہت مضبوط ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ سیاسی معاملات میں لوگوں کی مختلف آراء ہوں لیکن جب ہم ایک بڑے بحران میں ہوں تو ہمیں ضرور اس شخص کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے جو رہبر ہے اور درحقیقت جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ زمانے کے حالات کی سمجھ کا ایک اہم حصہ ہے۔"
30 اگست 2025
سلامتی کونسل کے رکن ایک رہنما سے میں نے کہا کہ جب وہ ہم پر حملہ کرتے ہیں اور آپ لوگ جو سلامتی کونسل کے رکن بھی ہیں، کچھ نہیں کرتے، تو پھر یہ بین الاقوامی قوانین کس لیے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ یہ قوانین فضول ہیں، اس لیے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم کا مطلب طاقت ہے!
28 اگست 2025
اگر ڈپلومیسی اس لیے ہو کہ ہمیں جنگ سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ہم صلح کرنا چاہتے ہیں تو یہی حقیقی ڈپلومیسی ہے۔ میں اس وقت حالات کو اس طرح نہیں پاتا، یعنی مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ جو ڈپلومیسی اختیار کیے ہوئے ہیں وہ بہانے پیدا کرنے کی ڈپلومیسی ہے۔
23 اگست 2025
رہبر انقلاب کی ویب سائٹ KHAMENEI.IR نے صیہونی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ بارہ روزہ جنگ کے تجزیے کے تناظر میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری اور اس کونسل میں رہبر انقلاب کے نمائندے ڈاکٹر علی لاریجانی سے ایک انٹرویو میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو میں صیہونی حکومت کے ساتھ فائر بندی کے دوران سامنے آنے والے واقعات، ان ایام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے موجود چیلنجز اور انھیں کنٹرول کرنے کے طریقوں پر بات ہوئی۔
22 اگست 2025