امام حسین علیہ السلام، اس عظیم انسان نے مخالفت پر تلے زمانے اور بہت بڑی جماعت کا شجاعت سے مقابلہ کیا، آپ کے دل میں کبھی بھی کوئی خوف و ہراس پیدا نہیں ہوا۔ مگر جہاں جذباتی مسائل ہوں تو امام کا طرز عمل دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر امام کے ایک صحابی حضرت جون جو سیاہ فام تھے جب معرکہ کربلا میں زخمی ہوکر زمین پر گرے تو امام نے بہت تیزی سے خود کو ان کے قریب پہنچایا۔ حضرت جون اہل بیت پیغمبر کے عقیدتمندوں میں سے تھے، اسی لئے وہ امام حسین علیہ السلام کے ناصرین میں شامل تھے۔ وہ بہت عام سے انسان تھے۔ امام اپنے اس ناصر کے سرہانے پہنچے۔ حضرت جون کا کوئی بیٹا نہیں تھا، ان پر گریہ کرنے والا ان کا اپنا کنبہ نہیں تھا۔ حضرت جون کے جنازے پر پہنچنے کے بعد امام حسین علیہ السلام کی وہی حالت ہوئی جو حضرت علی اکبر کی شہادت کے وقت ہوئی تھی۔ ان کے سر کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت جون کا خون میں ڈوبا ہوا سر اپنے زانو پر رکھا، تب بھی امام کو تشفی نہیں ہوئی۔ یکبارگی سب نے دیکھا کہ امام حسین جھکے اور اپنا چہرہ اپنے حبشی ناصر کے چہرے پر رکھ دیا۔
1 ستمبر 2019


