ایک دوسر ے کی نسبت شوہر و زوجہ کے باہمی فرائض مختلف ہیں لیکن ان میں توازن پایا جاتا ہے۔ خداوند عالم قرآن میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 288 میں ارشاد فرماتا ہے: اور دستورِ شریعت کے مطابق عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جس طرح کہ مردوں کے حقوق ہیں۔ جس مقدار میں حق ان (بیویوں) کا ہے اسی مقدار میں حق ان کے مد مقابل (شوہروں) کا ہے یعنی جتنی ایک بات حق کے طور پر ان (خواتین) سے تعلق رکھتی ہے اتنی ہی ایک بات فریق مقابل سے بھی تعلق رکھتی ہے مطلب یہ ہے کہ اُن کے بھی کندھوں پر اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ یعنی کسی پر جو بھی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کے بدلے میں اسے ایک حق بھی دیا گیا ہے۔ جسے بھی جو امتیاز دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں ایک ذمہ داری بھی رکھی گئي ہے؛ ایک مکمل توازن۔ امام خامنہ ای 2 جنوری 2023
15 نومبر 2025
آج ہمارے سماج کی اہم ضرورت یہ ہے کہ اسے یہ معلوم ہو کہ خاتون خانہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی ان عظمتوں کے ساتھ، اپنے اس مقام و مرتبے کے ساتھ ایک خاتون خانہ بھی ہیں۔ آپ کی عظمت کا ایک پہلو زوجہ کے فرائض کی ادائیگی، ماں کے فرائض کی ادائیگی اور خاتون خانہ ہونے کے تقاضے پورے کرنا ہے۔
21 دسمبر 2024
ایک دوسرے کی نسبت شوہر و زوجہ کے باہمی فرائض مختلف ہیں لیکن ان میں توازن پایا جاتا ہے۔ کسی پر جو بھی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس کے بدلے میں اسے ایک حق بھی دیا گیا ہے۔ جسے بھی جو امتیاز دیا گیا ہے اس کے مقابلے میں ایک ذمہ داری بھی رکھی گئي ہے؛ ایک مکمل توازن۔ امام خامنہ ای 2 جنوری 2023
10 نومبر 2024