یحییٰ ابراہیم حسن سنوار کی داستان صرف ایک انسان کی داستان نہیں ہے۔ یہ غاصبانہ قبضے، جدوجہد، مزاحمت اور ایک مقابلہ آرائی کی پیچیدگی کی داستان ہے جس نے دہائيوں سے نہ صرف مغربی ایشیا کے علاقے کو بلکہ دنیا کو متاثر کر رکھا ہے۔
7 جنوری 2025
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بدھ کی صبح صوبۂ فارس کے 15 ہزار شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کانفرنس کی منتظمہ کمیٹی سے ملاقات میں خطے کے واقعات اور مزاحمتی محاذ کی استقامت و مجاہدت کو علاقے کے مستقبل اور تاریخ میں بڑی تبدیلی بتایا اور 50 ہزار سے زیادہ بے قصور انسانوں کے قتل عام کے باوجود مزاحمت کو ختم کرنے میں صیہونی حکومت کی شکست پر زور دیتے ہوئے مغربی تہذیب و تمدن اور مغربی حکام کی رسوائي کو زیادہ بڑی شکست قرار دیا اور کہا کہ شیطانی محاذ کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کی صف آرائي میں، فتح مزاحمتی محاذ کی ہے۔
23 اکتوبر 2024
مجاہد ہیرو، کمانڈر یحییٰ سنوار اپنے شہید ساتھیوں سے جا ملے۔ ان جیسے انسان کے لیے شہادت کے علاوہ کوئی انجام سزاوار نہیں ہے۔
22 اکتوبر 2024
ہم توفیق و نصرت خداوندی سے ہمیشہ کی طرح مخلص مجاہدوں اور جانبازوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے۔
21 اکتوبر 2024
ہم توفیق و نصرت خداوندی سے ہمیشہ کی طرح مخلص مجاہدوں اور جانبازوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے۔
20 اکتوبر 2024
یحیی سنوار جیسا انسان جس نے اپنی پوری عمر غاصب و ظالم دشمن کے خلاف پیکار میں بسر کی، اس کے لئے شہادت کے علاوہ کوئی انجام سزاوار نہیں تھا۔
20 اکتوبر 2024
مجاہد ہیرو، کمانڈر یحیی سنوار اپنے شہید ساتھیوں سے جا ملے۔ وہ مزاحمت و جہاد کا درخشاں چہرہ تھے جو فولادی عزم کے ساتھ ظالم و جارح دشمن کے مد مقابل ڈٹے رہے۔
20 اکتوبر 2024
شیخ احمد یاسین، فتحی شقاقی، رنتیسی اور اسماعیل ہنیہ جیسی ممتاز ہستیوں کی شہادت کے بعد بھی اس محاذ کی پیش قدمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی تو سنوار کی شہادت سے بھی ان شاء اللہ ذرہ برابر وقفہ پیدا نہیں ہوگا۔ حماس زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔
20 اکتوبر 2024
19 اکتوبر 2024