اگر کوئی جوان، دنیوی خواہشات اور دنیوی مشغلوں کو خدا کے لیے ترک کر دے اور اپنی جوانی کو عبادت خدا میں ادھیڑ عمر اور بڑھاپے تک پہنچا دے تو خداوند عالم اسے 72 صدیقوں کا اجر عطا فرمائے گا۔
یقینی طور پر شہید رازینی نے بھی اور شہید مقیسہ نے بھی اپنی زندگي میں بڑے بڑے کام کیے تھے جو اس بات کا باعث بنے کہ خداوند متعال انھیں شہادت کا رتبہ اور یہ قابل توجہ عظمت عطا کرے۔