اب وہی ظالم اور سفاک صیہونی حکومت، اسی حماس کے ساتھ جسے وہ نابود کرنا چاہتی تھی، مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے اور جنگ بندی پر عمل کے لیے اس کی شرطیں مان چکی ہے۔ غزہ فتحیاب ہوا۔
رہبر انقلاب کے مشیر ڈاکٹر لاریجانی: یہ لوگ سوچ رہے تھے کہ وہ جیت گئے اور حزب اللہ کا کام تمام ہوگيا۔ بارہ تیرہ دن گزرنے کے بعد حالات بدل گئے۔ اس کے بعد تو وہ خود جنگ بندی کے لیے ہاتھ پیر جوڑنے لگے، پھر قرارداد تیار ہوئي۔ اس سے پہلے جو بھی قرارداد تیار ہوتی وہ اسے مسترد کر دیتے تھے۔