انسان کا مرد یا عورت ہونا ایک ثانوی مسئلہ ہے، ایک عارضی بات ہے جو صرف زندگی کے امور میں معنی و مفہوم پیدا کرتی ہے اور انسانی کمال و ارتقا کےاصل سفر میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہاں تک کہ ان کے کام بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اُس جوان کی مجاہدت و قربانی کا ثواب، جو اپنی جان ہتھیلی پر لیے میدان جنگ میں گیا ہو، اس کی بیوی کو دیا جاتا ہے کیونکہ بیوی کے کام کی زحمت و مشقت بھی اس سے کم نہیں ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ یہ مرد معاشرے میں ایک مفید و کارآمد شخص ثابت ہو تو اس عورت کو بھی گھر کے اندر ایک اچھی بیوی ثابت ہونا پڑے گا ورنہ یہ چیز ممکن نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2012
14 فروری 2026
ہمارا معاشرہ امیر المومنین علیہ السلام کے زہد کی سمت میں آگے بڑھے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امیرالمومنین کی طرح زاہد بن جائیں کیونکہ نہ ہم بن سکتے ہیں نہ ہم سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہم کو ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے یعنی ہمیں فضول خرچی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں ہم امیرالمومنین کے شیعہ کہے جائیں گے۔ فرمایا ہے: "ہمارے لیے زینت بنو۔" ہمارے لیے زینت بننے کا کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ تمھارا عمل ایسا ہو کہ جب کوئی تمھیں دیکھے تو کہے: واہ واہ! امیر المومنین کے شیعہ کس قدر اچھے ہیں! امام خامنہ ای 21 ستمبر 2016
14 جنوری 2026
پیغمبر اسلام کی بعثت کا ایک بہت ہی اہم خزانہ، جس کی طرف افسوس کہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، اپنے بدخواہوں کے مقابل اٹل اور ناقابل رسوخ ہونا ہے۔ جس کا ذکر اس آیت "اشداء على الكفار" (وہ کافروں پر سخت ہیں ... سورۂ فتح، آیت 29) میں موجود ہے، "اشداء" عمل میں سختی کے معنی میں نہیں ہے، اشداء یعنی سخت ہونا، مضبوط و مستحکم ہونا، ناقابل رسوخ ہونا، اشداء کا یہ مطلب ہے۔ "اشداء على الكفار" یعنی کفار کو اجازت نہ دیں کہ وہ معاشرے میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔ دشمن کے نفوذ کا مطلب اغیار اور بدخواہ قوتوں کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا خود اپنے ملک و معاشرے میں کوئی اختیار نہ رہے۔ امام خامنہ ای 18 فروری 2023
5 جنوری 2026
اس آئيڈیل معاشرے کی خصوصیت جو امام زمانہ علیہ السلام تشکیل دیں گے، انسان کی سوچ کی سطح کا اوپر اٹھنا ہے۔ انسان کی علمی سوچ بھی اور انسان کی اسلامی سوچ بھی۔
2 جنوری 2026
جس طرح انسانی جسم، خلیوں سے تشکیل پایا ہے اور ان خلیوں کی تباہی و بربادی یا سیلز کی بیماری، قدرتی طور پر جسم کی بیماری سمجھی جاتی ہے اور اگر اس میں تیزی اور وسعت پیدا ہوجائے اور وہ بدن کے خطرناک حصوں تک پہنچ جائے تو پورے بدن کے لیے خطرہ بن جاتی ہے، اسی طرح معاشرہ بھی سماجی خلیوں سے تشکیل پایا ہے اور یہ خلیے فیملی کے نام سے جانے جاتے ہیں، ہر فیملی، معاشرتی ڈھانچے کا ایک خلیہ اور ایک ستون ہے، جب تک یہ فیملی صحتمند ہے اور جب تک ان کا رویہ و برتاؤ صحیح و سالم ہے معاشرے کا جسم صحتمند و سالم رہے گا۔ امام خامنہ ای 29 مئی 2002
2 اگست 2025
فرد اور معاشرے کی تعمیر کے لیے صحیفۂ سجادیہ سے انس کی ضرورت کے سلسلے میں رہبر انقلاب کے بیانوں کے اقتباسات۔
3 فروری 2025
ہمارا معاشرہ امیر المومنین علیہ السلام کے زہد کی سمت میں آگے بڑھے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امیرالمومنین کی طرح زاہد بن جائیں۔ کیونکہ نہ ہم بن سکتے ہیں نہ ہم سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہمیں ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے یعنی فضول خرچی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ افسوس کہ ہم فضول خرچی میں گرفتار ہیں۔ ہم برسوں سے اس بارے میں مسلسل نصیحت کرتے چلے آرہے ہیں خود اپنے آپ کو، عوام کو اور دوسروں کو برابر سمجھاتے رہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور معاشرے سے فضول خرچی کو کم کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 ستمبر 2016
16 جنوری 2025
پیغمبر اسلام کی بعثت کا ایک بہت ہی اہم خزانہ، جس کی طرف افسوس کہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، اپنے بدخواہوں کے مقابل اٹل اور ناقابل رسوخ ہونا ہے۔ انسانی معاشروں کو جو چوٹیں پہنچی ہیں، ان میں سے ایک ان کے دشمنوں کا ان کے درمیان اثر و رسوخ پیدا کرلینا ہے جس کا ذکر اس آیت "اشداء على الكفار" میں موجود ہے، "اشداء" عمل میں سختی کے معنی میں نہیں ہے، اشداء یعنی سخت ہونا، مضبوط و مستحکم ہونا، ناقابل رسوخ ہونا، اشداء کا یہ مطلب ہے۔ "اشداء على الكفار" یعنی کفار کو اجازت نہ دینا کہ وہ معاشرے میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔ امام خامنہ ای 18 فروری 2023
7 جنوری 2025
مہدویت جس چیز کی نوید دیتی ہے وہ ایک توحیدی دنیا ہے جس کی تعمیر عدل کی بنیاد پر اور ان تمام صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے کی گئي ہو جو خداوند عالم نے انسان کے وجود میں رکھی ہیں، حضرت امام مہدی سلام اللہ علیہ و عجل اللہ تعالی فرجہ کے ظہور کا زمانہ ایسا زمانہ ہوگا۔ وہ توحیدی معاشرے کا زمانہ ہے، حقیقی معنی میں عدل و روحانیت کی مکمل اور جامع حکمرانی کا زمانہ ہے۔ امام خامنہ ای 9/7/2011
6 دسمبر 2024
بعض لوگ، اپنی خبر کے ذریعے، اپنے تبصرے کے ذریعے، واقعات کے اپنے تجزیے کے ذریعے لوگوں میں شک پیدا کر دیتے ہیں، خوف پیدا کر دیتے ہیں، یہ چیز خداوند عالم کی نظر میں ناقابل قبول ہے؛ اس سلسلے میں قرآن کا موقف بہت ٹھوس ہے، قرآن اس بارے میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے: "لَئِن لَم یَنتَہِ المُنافِقونَ وَ الَّذینَ فی قُلوبِھِم مَرَضٌ وَ المُرجِفونَ فِی المَدینَۃ" "مرجفون" یہی لوگ ہیں۔ مرجفون یعنی وہ افراد جو لوگوں کے دل میں اضطراب پیدا کرتے ہیں، خوف پیدا کرتے ہی۔ اگر ان لوگوں نے اپنی یہ حرکتیں بند نہ کیں تو خداوند عالم پیغمبر سے فرماتا ہے: "لَنُغریَنَّکَ بِھِم" تو ہم آپ کو حکم دیں گے کہ آپ جا کر انھیں سزا دیں۔
31 اکتوبر 2024
گھرانہ معاشرے کا بنیادی ستون ہے، معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اسلامی معاشرہ ایک صحیح و سالم اور بانشاط خاندانی ڈھانچے سے بہرہ مند ہوئے بغیر ہرگز ترقی نہیں کر سکتا، خاص طور پر ثقافتی میدانوں میں۔ البتہ غیر ثقافتی میدانوں میں بھی اچھے گھرانوں کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2012
22 ستمبر 2024
آج ہمارے معاشرے میں ایک بنیادی فکر اخلاق و عادات تبدیل کرنے پر مرکوز ہونا چاہئے، ہم میں سے ہر شخص کو اپنی یہ ذمہ داری سمجھنا چاہئے کہ ایک شخص کی عادت بدل کر اس کو برائی سے اچھائی کی راہ پر لگائیں اور وہ ایک شخص کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ امام خامنہ ای 14 جولائی 1993
11 اگست 2024