ہمیں پورے وجود کے ساتھ اسلام کی راہ میں قدم بڑھاتے جانا چاہیے، ہم کو اپنا یہ ہدف نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ استقامت کا مطلب ہے گمراہ نہ ہونا، اپنی راہ فراموش نہ کرنا اور سیدھے راستے کو گم نہ کرنا۔ یہ بات اس قدر حساس اور اہم ہے کہ خداوند متعال اپنے پیغمبر کو ان کی تمام تر عظمت کے ساتھ یہی نصیحت کرتا ہے: "فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ" (تو اے رسول! جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، آپ خود بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے (کفر و عصیان سے) توبہ کر لی ہے اور آپ کے ساتھ ہیں (راہِ راست پر) ثابت قدم رہیں۔ سورۂ ہود، آیت 112) پوری توجہ کے ساتھ راہ پر ڈٹے رہیں، راستہ گم نہ کریں اور غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ امام خامنہ ای 5 دسمبر 1990
4 فروری 2025
انسان کو یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ ہدف کیا ہے؟ ہدف دنیا کے چند سکّے نہیں ہیں کہ ہم ان کے لئے عظیم فریضے کو فراموش کر دیں اور اعلی اہداف کو پامال کر دیں۔ اصل ہدف سعادت ہے، نجات ہے: "قد افلح المؤمنون" (یقیناً اہلِ ایمان فلاح پاگئے۔ سورۂ مومنون، آيت 1) اس کو اپنا ہدف و مقصد بنانا چاہیے۔ امام خامنہ ای 5 اپریل 2010
3 اکتوبر 2024