معمولی اور اوسط درجے کی دو رکعتیں، جو غور و فکر کے ساتھ ہوں، تفکر اور تذکر کی حالت کے ساتھ ہوں، پوری رات صبح تک جاگ کر نماز پڑھنے سے بہتر ہیں۔
21 فروری 2026
"نماز" حقیقی معنیٰ میں دین کا عمود یعنی ستون ہے۔ عمود اور ستون کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو چھت ڈھے جائے گي، عمارت، عمارت نہیں رہے گي، نماز یہ ہے۔ لہٰذا دین کا پورا ڈھانچہ نماز پر ٹکا ہوا ہے۔ کون سی نماز اس ڈھانچے کی حفاظت کرسکتی ہے؟ وہ نماز جو مطلوبہ خصوصیات کی حامل ہو: جو تمام برائیوں اور ممنوعہ چیزوں سے روکے، جو ذکر پروردگار کے ہمراہ ہو۔ میری نظر میں مسجدوں کے محترم ائمہ جماعت کے لیے ایک اہم کام لوگوں کے سامنے نماز کے مسئلے کو بیان کرنا ہے کہ ہم نماز کی قدر و منزلت کو سمجھیں۔ اگر یہ (کام) ہو گیا تو نمازوں کا معیار بہتر ہو جائے گا۔ حقیقت امر یہ ہے کہ عموماً ہماری نمازیں یا تو معیار سے عاری ہوتی ہیں یا ان میں ضروری معیار نہیں ہوتا۔ ہمیں نماز کے اذکار کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 اگست 2016
18 فروری 2026
آپ تمام عزیز جوانوں کے لیے میری سفارش، تہذیب نفس (یا تعمیر ذات) کی ہے۔ تہذیب نفس بہت اہم ہے، انفرادی پہلوؤں سے بھی اور اجتماعی پہلوؤں سے بھی، قرآن کے ساتھ انس، قرآن کے ساتھ رابطہ، نماز میں قلبی توجہ، اول وقت نماز کی ادائيگي، دعاؤں پر توجہ، تہذیب نفس کے لیے ضروری ہے۔ میری نظر میں جس وقت آپ کی روحانی اور معنوی بنیادیں قوی ہوں گی تو فکری میدان میں بھی، فیصلے کرنے کے میدان میں بھی اور عملی میدان میں بھی آپ اپنے اندر زیادہ قوت و توانائی پیدا کرلیں گے اور ہمیں اپنی نوجوان نسل میں ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ امام خامنہ ای 17 مئی 2020
19 نومبر 2025
نماز کے ذریعے نوجوان کا دل نورانی ہو جاتا ہے، وہ امید حاصل کر لیتا ہے، روحانی تازگی اور شادابی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ حالات خاص طور پر نوجوانوں سے متعلق ہیں اور زیادہ تر جوانی کے ایام سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لذت اٹھا سکتے ہیں اور اگر خدا ہم کو اور آپ کو توفیق عطا کر دے کہ پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھ سکیں تو دیکھیں گے کہ پوری توجہ کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز میں انسان سیر نہیں ہوتا۔ انسان جس وقت پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کو وہ لذت ملتی ہے جو تمام مادی لذتوں میں نہیں پائی جاتی، یہ توجہ (اور اخلاص) کا نتیجہ ہے۔ امام خامنہ ای 19 نومبر 2008
12 نومبر 2025
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نماز کی بتیسویں قومی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں، دنیا و آخرت میں انسان کی زندگي میں اس روحانی اور حیات بخش فریضے کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نماز کی ترویج و تعلیم، دین کی تبلیغ کرنے والے اداروں، افراد اور دیندار لوگوں کی یقینی ذمہ داری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:
9 اکتوبر 2025
تمام شرعی واجبات کی ادائیگی اور تمام حرام کاموں سے دوری کا حکم، انسان کی روحانی جڑوں کی تقویت اور اس کے دنیا و آخرت کے تمام امور کی اصلاح کے لیے، چاہے وہ انفرادی اصلاح ہو یا اجتماعی۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس میں بعض عناصر کلیدی ہیں چنانچہ شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ان عناصر میں نماز سب سے بنیادی عنصر ہے۔ ملک کے جوان طبقے میں دوسروں سے زیادہ نماز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ نماز کے ذریعے ایک جوان کا دل روشن ہو جاتا ہے، امیدوں کے دریچے کھل جاتے ہیں، روح تازہ ہو جاتی ہے، سرور و نشاط کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور یہ حالات زیادہ تر جوانوں کا خاصہ ہیں۔ امام خامنہ ای 19 نومبر 2008
3 ستمبر 2025
انسان اپنی ذاتی زندگی میں بعض اوقات، محنتوں، مشقتوں اور مصیبتوں سے متاثر ہوکر ذکر خدا سے قریب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات ہوا و ہوس سے آلودہ سرگرمیوں میں پڑ کر اس سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ عنصر جو ان تمام حالات میں انسان کو بہشتِ ذکر سے قریب کردیتا ہے یا اور اس سے اور زیادہ قریب ہوجانے میں مدد کرتا ہے، وہ نماز ہے۔ نماز میں اگر روحانی آمادگی پائی جاتی ہو تو وہ انسان کو معراج اور خدا کے حضور اور تقرب سے اور زیادہ قریب کردیتی ہے۔ امام خامنہ ای 7 ستمبر 2002
16 جولائی 2025
قرآن کریم نے صاحب اقتدار مومنین کی تعریف کرتے ہوئے ان کے فرائض میں سر فہرست نماز قائم کرنے کا نام لیا ہے: یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے۔ (سورۂ حج، آیت 41) (مومن کے) ذاتی عمل میں، یہ فریضہ نماز کو کیفیت عطا کرنے کی غرض سے ہے اور اجتماعی عمل میں نماز کی ترویج کے لیے ہے۔ نماز کو کیفیت عطا کرنے کا مطلب ہے کہ نمازی خود کو خدا کے سامنے حاضر سمجھتے ہوئے نماز ادا کرے، نمازی، نماز کو خدا سے ملاقات کی وعدہ گاہ سمجھے۔ امام خامنہ ای 2 ستمبر 2013
2 جولائی 2025
"نماز" حقیقی معنیٰ میں دین کا عمود یعنی ستون ہے۔ عمود اور ستون کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ نہ ہو چھت ڈھے جائے گي، عمارت، عمارت نہیں رہے گي، نماز یہ ہے۔ لہٰذا دین کا پورا ڈھانچہ نماز پر ٹکا ہوا ہے۔ کون سی نماز اس ڈھانچے کی حفاظت کرسکتی ہے؟ وہ نماز جو مطلوبہ خصوصیات کی حامل ہو۔ اگر یہ (کام) ہو گیا تو نمازوں کا معیار بہتر ہو جائے گا۔ حقیقت امر یہ ہے کہ ہماری نمازیں یا تو زیادہ تر معیار سے عاری ہوتی ہیں یا ان میں ضروری معیار نہیں ہوتا۔ ہمیں نماز کے اذکار کی گہرائیوں تک پہنچنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 اگست 2016
6 فروری 2025
اکتیسویں قومی نماز کانفرنس کے نام رہبر انقلاب کے پیغام میں اول وقت اور پوری توجہ و یکسوئي سے نماز پڑھنے پر تاکید کی گئي ہے۔
26 دسمبر 2024
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے نماز کی اکتیسویں قومی کانفرنس کے نام ایک پیغام میں حجۃ الاسلام و المسلمین محسن قرائتی کے مخلصانہ اقدامات کو سراہتے ہوئے نمازیوں کو اول وقت نماز پڑھنے، اور ان کے دل و جان اور انفرادی و سماجی عمل میں نماز کے اثر کے لیے پوری توجہ اور دلی یکسوئي سے نماز پڑھنے کی سفارش کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سفارش کا خطاب دوسروں کی نسبت جوانوں سے زیادہ ہے۔
25 دسمبر 2024
آپ تمام عزیز جوانوں کے لیے میری سفارش، تہذیب نفس (یا تعمیر ذات) کی ہے۔ تہذیب نفس بہت اہم ہے، انفرادی پہلوؤں سے بھی اور اجتماعی پہلوؤں سے بھی، قرآن کے ساتھ انس، قرآن کے ساتھ رابطہ، نماز میں قلبی توجہ، اول وقت نماز کی ادائيگي، دعاؤں پر توجہ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو میری نظر میں تہذیب نفس کے لیے ضروری ہیں۔ امام خامنہ ای 17 مئی 2020
21 نومبر 2024