جب تم یہ نیک کام کرتے ہو تو کتنی دعا کرنی چاہیے؟ آنحضرت فرماتے ہیں کہ اتنی ہی کافی ہے، جتنا کھانے کے لیے نمک ضروری ہے، کام کے لیے اتنی دعا ضروری ہے۔
24 فروری 2026
دعا، خداوند متعال کا عشق دل میں برقرار رکھتی ہے۔ تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا مظہر ذات اقدس پروردگار ہے۔ دعا اور خداوند تعالی کے ساتھ انس اور ہم کلامی، یہ محبت انسان کے دل میں پیدا کردیتی ہے۔ دعا زندگی کی مشکلات کے سامنے صبر و حوصلے کی قوت انسان کو بخشتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کے دوران کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے مشکلیں اور سختیاں اس کے دامنگیر ہو جاتی ہیں۔ دعا انسان کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے اور انسان کو حادثات کے مقابل قوت و استحکام بخش دیتی ہے۔ لہذا روایت میں دعا کو (مومن کے) اسلحے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اکتوبر 2005
29 اکتوبر 2025
روایت ہے کہ دعا "مُخ العبادۃ" یعنی عبادت کا مغز اور ما حصل ہے، عبادت کی روح دعا ہے۔ دعا کا کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے خداوند متعال سے باتیں کرنا، در اصل خدا کو اپنے پاس محسوس کرنا اور اپنے دل کی بات اس کے سامنے رکھنا ... دل میں خدا کی یاد زندہ رکھنا غفلت اور لاپروائی کو ختم کرتا ہے جو تمام انحرافات، کجروی اور انسانی کی خرابیوں کی جڑ ہے۔ دعا غفلت کے پردے ہٹا دیتی ہے، انسان کو خدا کی یاد میں لگا دیتی ہے اور خدا کی یاد دل میں بیدار رکھتی ہے۔ خداوند متعال سے غفلت انسان کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔ امام خامنہ ای 30 اکتوبر 1998
22 اکتوبر 2025
انسان سر سے پاؤں تک نیازمند ہے۔ ان مشکلات سے نجات اور ان ضرورتوں کی تکمیل کا مطالبہ ہم کس سے کریں؟ خداوند متعال سے، کیونکہ وہ ہماری حاجتوں سے واقف ہے۔ خدا جانتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا ضروری ہے، اور کون سی چیز آپ اس سے مانگ رہے ہیں۔ لہذا اپنے خدا سے مانگیے۔ آپ کے پروردگار نے فرمایا ہے: "مجھ سے دعا کرو" یعنی مجھ کو پکارو، میں تم کو جواب دوں گا، انسان ضرورتمند ہے اور ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے خدا کے در پر جانا چاہیے تاکہ دوسروں کے سامنے گڑگڑانے سے بے نیاز ہوجائیں۔ امام خامنہ ای 15 فروری 1995
15 اکتوبر 2025
ہم دعا کو معمولی نہ سمجھیں، خداوند متعال سے کچھ طلب کرنے کو معمولی بات نہ سمجھیں۔ آپ سے جہاں تک ممکن ہو دعا کو پروردگار کی بارگاہ میں ایک ایسے ماحول میں پیش کیجیے جس میں آپ کی بہترین حالت ہو، رونے اور گڑگڑانے کا ماحول ہو۔ اگر آپ خداوند متعال کے سامنے گڑگڑا سکے اور فریاد کرسکے تو آپ دنیا کی کھوکھلی قوت، نام نہاد طاقت، کسی بھی جھوٹی اور دکھاوے کی بڑی طاقت کے سامنے اپنا سر بلند رکھ سکیں گے۔ قرآن میں بھی ہماری ہدایت کی گئی ہے اور ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم خدا سے دعا کیا کریں۔ امام خامنہ ای 08 اپریل 2018
1 اکتوبر 2025
دعا مستجاب ہونے کی شرطوں میں سے ایک یہ ہے کہ دعا پوری توجہ کے ساتھ کی جائے، بعض اوقات صرف زبانی طور پر کچھ جملے لبوں سے جاری ہوجاتے ہیں، دس سال تک انسان اس طرح سے دعا کرتا رہتا ہے اور بالکل مستجاب نہیں ہوتی، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دعا کی مقبولیت کی شرطوں میں ایک یہ ہے جیسا کہ (معصوم نے) فرمایا ہے: خداوند متعال اس شخص کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل غافل ہو۔ خدا کے سامنےگڑگڑانا چاہیے، پوری سنجیدگی کے ساتھ اس سے مانگنا اور التجا کرنا چاہیے۔ اس صورت میں یقیناً خدائے متعال دعاؤں کو شرف قبولیت عطا کرے گا۔ امام خامنہ ای 17 فروری 1995
9 جولائی 2025
ان لوگوں کے لیے جو بیکار بیٹھے ہوں اور اپنے مقاصد کی راہ میں جدوجہد نہ کرتے ہوں، ہدف و مقصد تک پہنچنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ دعا میں، خداوند متعال سے مانگنا اور چاہنا شرط ہے، حقیقت میں مانگنا ضروری ہے۔ یہ دعا (اسی وقت) مستجاب ہوگی جب عظیم اہداف و مقاصد کی راہ میں آپ دعا کے ساتھ عمل اور جدوجہد کریں، اس صورت میں جبکہ دعا میں تسلسل پایا جاتا ہو قطعی طور پر دعا کی قبولیت اور استجابت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ امام خامنہ ای 25 دسمبر 1998
23 جون 2025
آپ با سعادت حجاج، خداوند متعال سے ظالم صیہونیوں اور ان کے حامیوں پر فتح کی دعا کیجیے۔ رہبر انقلاب کے پیغام حج 2025 سے اقتباس
5 جون 2025
ہمارے عرفانی مآخذ میں وہ چیزیں پائی جاتی ہیں جو سوائے صحیفۂ سجادیہ یا ماثورہ دعاؤں کے انسان کو ہرگز کہیں اور نہیں مل سکتیں۔ یہ معارف، دعا کی زبان میں بیان ہوئے ہیں۔ معرفت کی اس کیفیت اور طبیعت کا تقاضا ہے کہ اسے، اس زبان میں ہی بیان کیا جاسکتا ہے، کسی دوسری زبان میں وہ بات ادا نہیں کی جاسکتی۔ لہذا ہمیں روایات میں اس طرح کے معارف کم ہی نظر آتے ہیں لیکن صحیفہ سجادیہ میں اور دعائے کمیل، مناجات شعبانیہ، دعائے عرفہ امام حسین (علیہ السلام)، دعائے عرفہ امام سجاد (علیہ السلام) اور دعائے ابوحمزہ ثمالی میں اس طرح کی باتیں کثرت سے موجود ہیں، دعاؤں کی طرف سے غافل نہ رہیے، دعائیں پڑھتے رہیے اور دعا بھی کرتے رہیے۔ امام خامنہ ای 9 اکتوبر 2005
9 اپریل 2025
دعا زندگی کی مشکلات کے سامنے صبر و حوصلے کی قوت انسان کو بخشتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کے دوران کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے، مشکلیں اور سختیاں اس کے دامنگیر ہو جاتی ہیں۔ دعا انسان کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے اور انسان کو حادثات کے مقابل قوت و استحکام بخش دیتی ہے۔ لہذا روایت میں دعا کو (مومن کے) اسلحے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اکتوبر 2005
31 اکتوبر 2024
دعا کا کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے خداوند متعال سے باتیں کرنا اور خدا کو اپنے پاس محسوس کرنا۔ دل میں خدا کی یاد زندہ و تازہ رکھنا غفلت اور لاپروائی کو ختم کرتا ہے جو تمام انحرافات، کجروی اور انسانی کی خرابیوں کی جڑ ہے۔ دعا غفلت کے پردے ہٹا دیتی ہے، انسان کو خدا کی یاد میں لگا دیتی ہے اور خدا کی یاد دل میں بیدار رکھتی ہے۔ امام خامنہ ای 30 اکتوبر 1998
24 اکتوبر 2024