خداوند عالم نے انبیاء اور اولیاء کو بھی نعمت عطا کی ہے اور بنی اسرائيل کو بھی۔ "مغضوب علیھم" یعنی جن پر خدا کا غضب ہوا اور "ضالّین" یعنی گمراہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جنھیں اللہ نے اپنی نعمت عطا کی ہے۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ خدا کچھ لوگوں کو نعمت عطا کرتا ہے اور کچھ کو گمراہ کرتا ہے اور ان پر غضب کرتا ہے، ایسا نہیں ہے۔ "المَغضوبِ عَلَيھِم"، "اَنعَمتَ عَلَيھِم" کی صفت ہے۔ تاہم جن لوگوں کو خدا نے نعمتیں عطا کی ہیں، وہ دو طرح کے ہیں: ایک وہ جنھوں نے اپنے عمل سے، اپنی تساہلی سے، اپنی گمراہی سے نعمت کو برباد کر دیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے کوشش اور شکر کے ذریعے نعمت کو باقی رکھا۔ بنی اسرائیل بھی ان لوگوں میں سے تھے جنھیں خدا نے بڑی نعمت عطا کی تھی جس کے سبب انھیں دوسروں پر فضیلت مل گئی تھی لیکن وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بن گئے۔ ہماری کسوٹی اور ہمارا معیار، سیدھے راستے کا وہ راہرو ہونا چاہیے جسے اللہ نے نعمت عطا کی ہو اور جو اس کے غضب کا نشانہ نہ بنا ہو۔ امام خامنہ ای 10 جولائی 2013
30 مارچ 2025
پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ان پر اللہ نے انعام و احسان کیا ہو۔ قرآن میں کہا گيا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء کو بھی، صدیقین کو بھی، شہداء کو بھی اور صالحین کو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، انھوں نے راہ حق کو تلاش کر لیا، گمراہ بھی نہیں ہوئے اور غضب الہی کا نشانہ بھی نہیں بنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے بھرپور نعمت عطا کی، ان پر غضب نہیں کیا اور وہ لوگ اپنی پاکیزہ سیرت اور ثابت قدمی کی وجہ سے ذرہ برابر بھی گمراہی کی طرف نہیں بڑھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اہلبیت اور ائمہ علیہم السلام ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔ اب اگر دنیا کی اکثریت دوسری طرح بات کرتی ہے، دوسری طرح عمل کرتی ہے تو ہمیں ہدایت الہی کو تسلیم یا مسترد کرنے کے لیے اپنی عقل اور اپنے دین کی کسوٹی بنانا چاہیے۔ مومن اور مسلم امت، وہ امت ہے جو قرآن مجید سے، ہدایت الہی سے معیار حاصل کرتی ہے۔ یہی ٹھوس معیار ہے۔ امام خامنہ ای 10 جولائی 2013
29 مارچ 2025
سورۂ حمد میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں: صِراطَ الَّذينَ اَنعَمتَ عَلَيھِم۔ صراط مستقیم یا سیدھا راستہ، ان لوگوں کا راستہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ نعمت کھانا، پینا نہیں ہے، ہدایت الہی کی نعمت ہے ... معنوی نعمت ہے جو سب سے بڑی الہی نعمت ہے۔ یہ ان لوگوں کی راہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے، ان پر غضب نہیں کیا ہے اور وہ گمراہ بھی نہیں ہوئے۔ یہ تین خصوصیات ہونی چاہیے: خدا نے انھیں ہدایت کی نعمت عطا کی ہو، انھوں نے اپنے برے اعمال سے اس نعمت کو غضب الہی میں تبدیل نہ کیا ہو اور گمراہ بھی نہ ہوئے ہوں۔ اس راہ کے مصادیق آپ اپنے زمانے میں، گزشتہ زمانے میں، اسلام کے ابتدائي زمانے میں اور تاریخ میں بڑی آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ امام خامنہ ای 11 جون 1997
28 مارچ 2025
ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ہماری ہدایت کرتا رہ، اس "ہدایت کرتا رہ" کے کیا معنی ہیں؟ ایک راستہ دکھانا ہے، ایک منزل تک پہنچانا ہے۔ راستہ دکھانے کا کیا مطلب ہے؟ کہتے ہیں ہدایت یعنی ہمیں راستہ دکھاؤ۔ منزل تک پہنچانے کا مطب یہ ہے کہ آپ کسی کا ہاتھ پکڑیں اور اسے وہاں لے جائيں جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔ انسان کے سلسلے میں ہدایت الہی ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان ہے، یعنی ہدایت الہی رہنمائی اور مدد کا مجموعہ ہے۔ مدد کا کیا مطلب ہے؟ یعنی توفیق عطا کرنا، انسان کے لیے راستہ کھولنا۔ یعنی جب انسان عزم کرے اور قدم بڑھائے اور خدا نے ہر مرحلے میں رہنمائي کی تو وہ اگلے مرحلے میں قدم بڑھانا انسان کے لیے آسان کر دیتا ہے اور کبھی کبھی لغزش کے مقامات پر اس کی مدد بھی کرتا ہے۔ امام خامنہ ای 8 مئی 1991
27 مارچ 2025
قرآن مجید کی ابتدا میں ہی سورۂ حمد میں پروردگار عالم سے ہماری درخواست "اِيّاكَ نَعبُدُ وَ اِيّاكَ نَستَعين" سے شروع ہوتی ہے۔ اس مدد طلب کرنے کا ایک بڑا مصداق اگلی آيت میں آتا ہے: "اِھدِنَا الصِّراط المستقیم" گویا یہ ساری تمہیدیں، اس عبارت کے لیے ہیں: سیدھے راستے کی طرف ہماری ہدایت کرتا رہ۔ پھر سورۂ حمد کے آخر تک اس صراط مستقیم یا سیدھے راستے کی تشریح کی جاتی ہے۔ صراط مستقیم، خدا کی عبادت کا راستہ ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے اپنی نفسانی خواہشات کو لگام لگانا۔ اسلام نفسانی خواہشات کو ختم نہیں کرتا، انھیں کنٹرول کرتا ہے، کیونکہ یہ خواہشات، آگے بڑھنے کا محرک ہیں۔ اسلام ان خواہشات کو لگام لگاتا ہے اور ان کی ہدایت کرتا ہے۔ اسلام جنسی خواہشات کو ختم نہیں کرتا لیکن ان پر لگام لگاتا ہے، مال و ثروت کی خواہش کو ختم نہیں کرتا کیونکہ یہ پیشرفت کا ذریعہ ہے لیکن اسے کنٹرول کرتا ہے۔ یعنی ہدایت کرتا ہے۔ امام خامنہ ای 6 مارچ 2000
26 مارچ 2025
سورۂ انعام کی آيت نمبر 161 میں پیغمبر سے کہا گيا ہے: کہہ دیجیے کہ بے شک میرے پروردگار نے سیدھے راستہ کی طرف میری رہنمائی کر دی ہے جو حضرت ابراہیم کے دین اور طرز زندگي سے عبارت ہے۔ یعنی دین کا مطلب دینی افکار، شناخت اور عمل ہے اور اسے صراط مستقیم کہا گيا ہے۔ سورۂ نساء کی آيت نمبر 175 میں کہا گيا ہے: تو جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور جنھوں نے خدا کے ذریعے اپنے آپ کو عصمت میں بچائے رکھا، عصمت یعنی خطا سے محفوظ رکھا گيا جس میں لغزش کا امکان نہ ہو، تو اللہ انھیں اپنی رحمت اور فضل کے عظیم دائرے میں داخل کرے گا اور سیدھے راستے کی جانب ان کی رہنمائی کرے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صراط مستقیم پر پہنچنے کا ذریعہ، اللہ سے جڑے رہنا ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئی 1991
25 مارچ 2025
سورۂ صافات کی آیت نمبر 118 میں موسیٰ اور ہارون کے بارے میں کہا گيا ہے: اور ہم نے (ہی) ان دونوں کو راہِ راست دکھائی۔ اگر آپ حضرت موسیٰ اور ہارون کی زندگي پر نظر ڈالیں تو یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ان دونوں کی زندگي، طاغوت کی اطاعت اور غیر اللہ کی حاکمیت سے سرتابی اور اس راہ میں یعنی لوگوں کی ہدایت، انھیں طاغوت کی حاکمیت سے نجات دینے اور انھیں اللہ کی حاکمیت کے دائرے میں لانے کے لیے مستقل جدوجہد اور مصائب برداشت کرنے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ سورۂ یاسین کی آيت نمبر 3 اور 4 میں پیغمبر اسلام سے خطاب ہوا ہے: یقیناً آپ (خدا کے) رسولوں میں سے ہیں (اور) سیدھے راستے پر ہیں۔ جیسا کہ آپ نے حضرت موسیٰ کی زندگي میں دیکھا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت، ان کا موقف اور ان کی راہ بھی وہی صراط مستقیم ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
24 مارچ 2025
صراط مستقیم کیا ہے؟ یہ کیا چیز ہے کہ ہم خداوند عالم سے اس کی جانب اپنی ہدایت کی دعا کر رہے ہیں؟ قرآن مجید کی آیتوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ صراط مستقیم کیا ہے؟ سورۂ آل عمران کی آيت نمبر 51 میں کہا گیا ہے: بے شک اللہ، میرا اور تمھارا پروردگار ہے تو تم اس کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے، سیدھا راستہ ہے۔ تو اس آيت میں صراط مستقیم کیا ہے؟ عبادت و بندگي، بندگی کے مقام تک پہنچنا۔ انسانی تاریخ میں یہ جو کثرت سے مظالم، گمراہیاں اور پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں، یہ اس وجہ سے ہیں کہ کسی نے یا کچھ لوگوں نے خدا کی بندگي کو تسلیم نہیں کیا، اپنی یا دوسروں کی نفسانی خواہشات کے بندے بن گئے۔ سورۂ یاسین کی آيت نمبر 61 میں کہا گيا ہے: اور میری ہی عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔ تو ان آيتوں کے مطابق صراط مستقیم کا مطلب ہے خدا کی عبادت، خدا کی بندگي، خدا کے سامنے سر تسلیم خم رکھنا۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
23 مارچ 2025
قرآن مجید میں راہ یا راستے کے لیے کئي الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ "طریق" جب ایک فرضی راستے پر کوئی آگے بڑھتا ہے جبکہ اس پر نہ کوئي علامت ہے، نہ اسے پتھروں سے ہموار کیا گيا ہے، بس کوئي ایک فرضی راستے پر چلنے لگے تو اسے طریق کہتے ہیں، اس راہ میں کوئي خصوصیت نہیں سوائے اس کے کہ ایک راہرو اس پر چلے۔ تو یہ ایک عمومی معنی ہے۔ "سبیل" کے معنی اس سے زیادہ محدود ہیں، یہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے والے زیادہ ہیں۔ سبیل، ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والوں کی کثرت کی وجہ سے وہ ہموار ہو گيا ہے اور واضح ہو گيا ہے، البتہ ممکن ہے کبھی انسان اس راستے کو کھو دے۔ "صراط" پوری طرح سے واضح راستے کو کہتے ہیں۔ یہ راستہ اتنا واضح ہے کہ اس راستے کو کھو دینے کا امکان ہی نہیں ہے۔ "اِھدِنَا الصِّراط" یعنی بالکل واضح راستہ دکھا، اس پر "المستقیم" کی قید بھی لگا دی یعنی ہمیں بالکل واضح اور سیدھا راستہ دکھا۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
22 مارچ 2025
ایک چوتھی قسم کی بھی ہدایت ہے جس کا نام ہم نے "خواص کی ہدایت" رکھا ہے، یہ سارے مومنین کے لیے بھی نہیں ہے بلکہ ان میں سے بھی خاص لوگوں سے مختص ہے۔ یہ وہ بہت ہی اعلیٰ سطح کی ہدایت ہے جو پیغمبروں اور اولیائے الہی سے مختص ہے۔ سورۂ انعام کی آيتیں پیغمبر سے کہتی ہیں کہ "اُولئكَ الَّذينَ ھَدَى اللّہ" یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے۔ "فَبِھُدٰھُمُ اقتَدِہ" آپ ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔ خدا کے برگزیدہ بندے اس کی جانب سے کچھ چیزیں، کچھ اشارے، کچھ خاص ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئي آيت سنائي جاتی ہے تو وہ کچھ اشارے حاصل کرتا ہے، اس آيت کے کچھ الفاظ ان کے لیے ایک ہدایت لیے ہوئے ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہ سبھی اللہ کی ہدایت ہیں، ہدایت کے معنی یہ ہیں۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
21 مارچ 2025
ایک ہدایت ہے جو مومنوں سے مختص ہے: ھُدًى لِلمُتَّقين، یہ اُس ہدایت کے اوپر ہے جو خود انسان کے اندر پائي جاتی ہے، جسے ایمانی ہدایت کہتے ہیں۔ اسی ہدایت کا ذکر سورۂ نحل میں ہے کہ جو لوگ خدا کی آيتوں پر ایمان نہیں لاتے، خدا ان کی ہدایت نہیں کرتا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا ہدایت نہیں کرتا؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ پھر کبھی مومن نہیں بن سکتے؟ انھیں کبھی ہدایت ایمانی حاصل نہیں ہو سکتی؟ کیوں نہیں، جو ایمان نہیں رکھتا، ممکن ہے کہ اس کے پاس آج ایمان نہ ہو، کل وہ اپنی عقل اور اپنی فطرت کی طرف لوٹ آئے اور ایمان لے آئے، تو یہ ایمانی ہدایت نہیں ہے، تیسری قسم کی ہدایت ہے، وہ ہدایت مومنین سے مختص ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
20 مارچ 2025
ہدایت کے معنی رہنمائي کرنے اور راستہ دکھانے کے ہیں۔ ہدایت الہی کے کئي مرحلے اور کئي معنی ہیں۔ ایک طرح کی ہدایت عام ہدایت الہی ہے جس میں تمام موجودات شامل ہیں۔ یہ تکوینی ہدایت ہے، عام اور عالمگیر ہے، اس کے ذریعے تمام موجودات کی رہنمائي ہوتی ہے۔ جس محرک کے تحت چیونٹیاں یا شہد کی مکھیاں خاص طریقے سے اپنا گھر بناتی ہیں اور اجتماعی طور پر زندگي گزارتی ہیں، اس کا سرچشمہ ہدایت الہی ہے۔ ہمارا مقصود یہ ہدایت نہیں ہے۔ ہدایت کی ایک قسم بنی نوع انسان سے مختص ہے کہ جو فطرت انسان سے عبارت ہے۔ انسان کے خمیر میں ایک احساس ہے، ایک پنہاں ادراک ہے جو اللہ کے وجود اور بعض دینی معارف کی طرف اس کی رہنمائي کرتا رہتا ہے۔ آپ اللہ کو اپنی عقل سے پہچانتے ہیں اور فطرت و عقل کے علاوہ اللہ کو پہچاننے کا کوئي ذریعہ نہیں ہے، یہی انسانی عقل کی ہدایت ہے لیکن مقصود یہ ہدایت بھی نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
19 مارچ 2025