ظلم، امتیازی سلوک، توہین ہر حال میں غلط ہے۔ اگر آپ دنیا کے سب سے اچھے مرد ہوں اور آپ کی زوجہ مثال کے طور پر تعلیم اور معلومات کے لحاظ سے ایک کم تعلیم یافتہ خاتون ہو یا ایک نچلے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو، تب بھی آپ کو اس پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے یا اس کی تھوڑی سی بھی توہین کرنے کا حق نہیں ہے، زوجہ وہی زوجہ ہے ابد تک کے لیے۔ شوہر کو زوجہ کی ذرہ برابر بھی توہین کا حق نہیں ہے۔ عورت کو بھی شوہر کی اہانت کا حق نہیں ہے۔ کبھی خاتون ایک پڑھی لکھی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہوتی ہے جس کی شادی مثال کے طور پر ایک مزدور سے ہوئي ہے۔ اسے بھی شوہر کی توہین و تذلیل کا حق نہیں ہے۔ مرد بہرحال اس کے لیے سہارا ہے۔ اسے اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 فروری 2000
31 جنوری 2026
اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4/1/2012
17 جنوری 2026