شادی کی ثقافتی و معاشرتی رکاوٹوں کو معمولی نہ سمجھیے۔ جوانوں کے لیے شادی ضروری ہے اور جوانوں کو شادی کی چاہت بھی ہے لیکن اس میں رکاوٹیں بھی پائی جاتی ہیں اور ساری رکاوٹیں معاشی نہیں ہیں، معاشی رکاوٹیں مشکلات کا صرف ایک حصہ ہیں، اہم رکاوٹیں ثقافتی اور معاشرتی ہیں۔ عادتیں، غرور، لالچ، دیکھا دیکھی اور عیش پرستی، یہ سب چیزیں ہیں جو بڑی حد تک وہ کام نہیں ہونے دیتیں جو ہونا چاہیے۔ آپ کی اور آپ کی فیملی کی ذمہ داری ہے کہ ان گرہوں کو کھولیں۔ اسلام میں شادی کی بنیاد سادگی پر ہے۔ امام خامنہ ای 27 فروری 2001
13 ستمبر 2025
شادی کے بارے میں جب جوانوں سے بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں اگر ہم شادی کر لیں تو بعد میں گھر کے لیے کیا کریں گے؟ روزگار کا کیا ہوگا؟ زندگی کے بہت سے مسائل میں ہم دیکھتے ہیں کہ جوانوں میں آمادگی بھی پائی جاتی ہے، وہ بالکل ٹھیک بھی ہیں، مسائل کو سمجھتے بھی ہیں، بس بات اتنی سی ہے کہ شادی، ایک بڑی ذمہ داری قبول کرنے کے معنی میں ہے جسے کچھ جوان قبول نہیں کرنا چاہتے۔ ذمہ داری سے گریز کا یہ احساس اس کام کے انجام پانے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ امام خامنہ ای 18 ستمبر 2000
12 جولائی 2025