اسلام نے گھر کے اندر عورت کے کردار کو جو اس قدر اہمیت دی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ عورت اگر گھرانے سے وابستہ ہو، بچوں کی تربیت کو اہمیت دے، اپنی آغوش میں انھیں پروان چڑھائے، ان کے لیے قصوں، شرعی احکام، قرآنی حکایتوں اور تعلیمی واقعات کی مانند معاشرتی اور تہذیبی غذائیں فراہم کرے اور جہاں کہیں بھی موقع ملے جسمانی غذاؤں کی طرح روحانی غذائیں چکھاتی رہے تو معاشرے کی نسلیں عاقل و ذہین بن کر پروان چڑھیں گی۔ یہ عورت کا ہنر ہے اور یہ کام عورت کے تعلیم حاصل کرنے، تعلیم دینے، کام کرنے اور سیاست یا اس طرح کے دوسرے کام انجام دینے کے منافی بھی نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 10 مارچ 1997
4 اکتوبر 2025
اسلام میں شادی کا طریقہ بقیہ ادیان اور بقیہ قوموں سے مختلف ہے، تمہیدی اقدامات کے اعتبار سے بھی اور اصل شادی نیز اس کے تسلسل اور بقا و دوام میں بھی انسان کی بھلائی کو پیش نظر رکھا گیا ہے، البتہ بقیہ ادیان کی شادیاں بھی ہماری نظر میں معتبر اور محترم ہیں، لیکن یہ طریقہ جو اسلام نے معین کیا ہے، ہم اس کو بہتر مانتے ہیں، مرد کے لیے کچھ حقوق ہیں، عورت کے لیے بھی کچھ حقوق ہیں، زندگی کے آداب اور طریقے ہیں۔ اسلام نے شادی کے لیے ایک روش اور طریقہ معین کیا ہے، بنیاد یہ ہے کہ خاندان پائیدار اور خوشحال رہے۔ امام خامنہ ای 8 اپریل 1998
31 مئی 2025