زیادہ تر گھرانوں کی تباہی کی وجہ ایک دوسرے کا خیال نہ رکھنا ہے۔ مرد کو پاس ولحاظ رکھنا نہیں آتا، عورت سمجھداری نہیں دکھا پاتی۔ وہ حد سے زیادہ سختی اور غصے سے کام لیتا ہے، یہ بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ہر بات پر اعتراض و احتجاج ہوتا ہے۔ اگر کبھی غلطی ہو گئی تو وہ فورﴼ غضبناک نہ ہو جائے، یہ نافرمانی نہ کرے۔ ایک دوسرے سے تعلقات بنائے رکھیں تو کوئی بھی گھر بکھرے گا نہیں اور کنبہ محفوظ رہے گا۔ امام خامنہ ای 8 فروری 1997
25 اکتوبر 2025
اسلام میں شادی کا طریقہ بقیہ ادیان اور بقیہ قوموں سے مختلف ہے، تمہیدی اقدامات کے اعتبار سے بھی اور اصل شادی نیز اس کے تسلسل اور بقا و دوام میں بھی انسان کی بھلائی کو پیش نظر رکھا گیا ہے، البتہ بقیہ ادیان کی شادیاں بھی ہماری نظر میں معتبر اور محترم ہیں، لیکن یہ طریقہ جو اسلام نے معین کیا ہے، ہم اس کو بہتر مانتے ہیں، مرد کے لیے کچھ حقوق ہیں، عورت کے لیے بھی کچھ حقوق ہیں، زندگی کے آداب اور طریقے ہیں۔ اسلام نے شادی کے لیے ایک روش اور طریقہ معین کیا ہے، بنیاد یہ ہے کہ خاندان پائیدار اور خوشحال رہے۔ امام خامنہ ای 8 اپریل 1998
31 مئی 2025